03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یوٹیوب کی آمدن کا حکم
80441جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

یوٹیوب پر اسلامی اور تربیتی پروگرام بناکر ان کے مونیٹائزیشن سے پیسے کمانا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ یوٹیوب کی پالیسی پر ایک حد سے آگے کسی کا بس نہیں چلتا،اس کے ساتھ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کے نامور اور بہت بڑے مفتیان کرام،جیسے مولانا طارق جمیل صاحب اور مفتی طارق مسعود صاحب وغیرہ کے چینل یوٹیوب پر ہیں اور وہ مونیٹائزیشن بھی کراچکے ہیں،آپ سے درخواست ہے کہ ان مسائل کے جوابات شریعت کی روشنی میں دے کر ثواب دارین حاصل کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

درج ذیل شرائط کی رعایت کے ساتھ یوٹیوب سے حاصل ہونے والی آمدن حلال ہے:

  1. چینل کسی جائز مقصد کےلیےبنایاگیاہو۔
  2. چینل میں کسی قسم کی خلاف شرع ویڈیوزاور مواد اپلوڈ نہ کیا جاتاہو۔
  3. ایسےاشتہارات کوفلٹرزکردیاجائےجوخلاف شرع ہو(یعنی خلاف شرع اشتہارات نہ چلتے ہوں(
  4. جو اشتہارات چلتے ہوں بنیادی طور پر وہ کسی حلال پروڈکٹ یا کاروبار سے متعلق ہوں۔
  5. اشتہارات کی فلٹریشن کےباوجود گوگل کی طرف سے مالک کی رضامندی کےبغیراگرخلاف شرع یاناجائز کاروباراور پروڈکٹ کےاشتہارات چلائے گئے  ہوں،توریویو سینٹر میں اشتہارات کاجائزہ لے کرناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔
حوالہ جات

"تفسير ابن كثير"2 /  12:

"وقوله: { وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان } يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات، وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل.والتعاون على المآثم والمحارم".

"رد المحتار "(ج 26 / ص 453) :

"وقال في النهاية : قال بعض مشايخنا : كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه ، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم ، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه ا هـ".

"فقہ البیوع "2 /  1038:

" الصورۃ الرابعۃ :ان المال مرکب من الحلال والحرام ولایعرف ان الحلال ممیز من الحرام اومخلوط غیر ممیز وان کان مخلوطا فکم حصۃ الحلال فیہ .

والاولی فی ھذہ الصورۃ التنزہ ولکن یجوزللآخذ  ان یاٗخذ  منہ مالہ ھبۃ اوشراء ،لان الاصل الاباحۃ وینبغی ان یقیدذالک باٗن یغلب علی ظن الآخذ ان الحلال فیہ بقدر مایأخذہ اواکثرمنہ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

27/ذی قعدہ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب