| 80485 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
حضرت ایک دن ثیلی ویژن پر کوئی ڈرامہ نشر کیا جا رہا تھا تومیں ،میری زوجہ اور والدہ محترمہ وہ دیکھ رہے تھے ۔ڈرامے میں شوہرنے اپنی بیوی کو طلاق دی ،اور بے خیالی میں ،میں نے اس ک الفاظ دہرا دئے میری والدہ نے مجھے ٹوکا اور کہا اس طرح طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ غالب گمان یہی ہے کہ میں نے دو 2دفعہ دہرایا تھا لیکن کبھی شک ہوتا ہے کہ تین 3 دفعہ دہرایا تھا الفاظ یہ تھے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" بغیر کسی نام کے ۔ میری زوجہ جو خود بھی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام ایک جامعہ سے فارغ التحصیل ہے اس نے کہا طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ مجھے نہیں کہے گئے یہ الفاظ ، نیز میری بھی ایسی کوئی نیت نہ تھی، اس کے بارے میں وضاحت فرمائیں ۔نوازش ہو گی
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈرامے میں ادا کیے گئے الفاظ کا دہرا نا، ان کا حکایت کرنا ( کسی کی گفتگوکو نقل کرنا) ہے،حکایتِ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔لہٰذا آپ کی بیوی کو ان الفاظ کے دہرانے سے طلاق نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 278)
لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول أنت طالق ولا ينوي لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال ثم يقف ويكتب: امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة باللفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه وما في القنية: امرأة كتبت أنت طالق ثم قالت لزوجها: اقرأ علي فقرأ لا تطلق.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 250)
لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته، وعما لو لقنته لفظ الطلاق فتلفظ به غير عالم بمعناه فلا يقع أصلا على ما أفتى به مشايخ أوزجند صيانة عن التلبيس وغيرهم من الوقوع قضاء فقط.
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/ذو القعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


