03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹا والد کے گھر میں رقم لگائے اور اوپر تعمیر کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
80521میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد صاحب کا فروری 2019ء کو انتقال ہوا ہے۔ والد صاحب کی حیات میں ہم سب ایک ہی گھر میں مشترکہ طور پر رہتے تھے، تقریبا دس سال ہم نے اس گھر میں گزارے۔ اس گھر کی تعمیر کے دوران والد صاحب کو رقم کی ضرورت پڑگئی تھی، بڑے بھائی نے اپنے سسر سے سولہ (16) لاکھ روپے قرض لے کر گھر کی تعمیر مکمل کروائی اور یہ قرض بھی بھائی ہی نے اپنے سسر کو ادا کیا۔ یہ بات والد صاحب کے علم میں تھی، البتہ والد صاحب کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ قرض میرے بیٹے نے مجھے دیا ہے۔

مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ ہمارے بڑے بھائی یہ سولہ (16) لاکھ روپے والد صاحب کی میراث میں سے لے سکتا ہے یا نہیں؟ والد صاحب کی حیات میں بڑے بھائی نے والد صاحب سے قرض کا مطالبہ نہیں کیا تھا، لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پیسے میں نے بطورِ قرض لگائے تھے۔

وضاحت: سائل کے بڑے بھائی صاحب سے بات ہوئی، انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ سولہ (16) لاکھ روپے بطورِ قرض لگائے تھے، نیز بعد میں یہ گھر تنگ پڑگیا تھا تو میں نے والد صاحب کی زندگی ہی میں ان کی اجازت سے اس کے اوپر اپنے لیے تعمیر کی تھی، وہ تعمیر اب بھی ہے۔ گھر کے اوپر تعمیر والی بات کی سائل نے بھی تصدیق کی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں آپ کے بھائی نے والد صاحب کے گھر کی تعمیر میں جو سولہ (16) روپے لگائے تھے، اس کے بارے میں ان کی بات کا اعتبار ہوگا۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ رقم میں نے بطورِ قرض لگائی تھی تو اب وہ والد صاحب کی میراث سے اپنا یہ قرض لینے کا حق رکھتے ہیں، اس کے بعد باقی ترکہ تمام ورثا میں اپنے اپنے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔

 اسی طرح انہوں نے والد کی اجازت سے اس گھر کے اوپر جو تعمیر کی تھی، اس میں بھی ان کی بات کا اعتبار ہوگا۔ لہٰذا اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ تعمیر میں نے اپنے لیے کی تھی تو یہ تعمیر انہی کی ہوگی، اگر آپ یہ گھر بیچنا یا تقسیم کرنا چاہیں تو اوپر تعمیر کی جو بھی قیمت بنے گی وہ صرف بڑے کو ملے گی، دوسرے ورثا کا اس میں کوئی حق نہیں ہوگا۔  

حوالہ جات

تنقيح الفتاوى الحامدية (4/ 425):

دفع إلى ابنه مالًا فأراد أخذه صدق أنه دفعه قرضًا؛ لأنه مملك.  دفع إليه دراهم فقال له: أنفقها ففعل فهو قرض، كما لو قال: اصرفها إلى حوائجك، ولو دفع إليه ثوبا وقال: اكتس به ففعل يكون هبة ؛ لأن قرض الثوب باطل، لسان الحكام في هبة المريض وغيره.

دفع إلى غيره دراهم فأنفقها، وقال صاحب الدراهم: أقرضتك، وقال القابض: لا، بل وهبتني، كان القول قول صاحب الدراهم، من نكاح الخانية.  

رد المحتار (5/ 710):

فروع: دفع دراهم إلى رجل وقال: أنفقها ففعل فهو قرض، ولو دفع إليه ثوبًا وقال ألبسه نفسك فهو هبة. والفرق مع أنه تمليك فيهما أن التمليك قد يكون بعوض، وهو أدنى من تمليك المنفعة، وقد أمكن في الأول؛ لأن قرض الدراهم يجوز، بخلاف الثانية، ولوالجية.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488):

ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة؛  لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك، والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له، أي للزوج عليها أي على الزوجة؛ لأنه غير متطوع، فيرجع عليها لصحة الأمر، فصار كالمأمور بقضاء الدين. وإن عمرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة، وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق، فلا يكون له الرجوع عليها به.  وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه، فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه، فيبقى على ملكه فيكون غاصباً للعرصة وشاغلاً ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين.

لكن بقي صورة، وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد: ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها، ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (3/ 641):

يوجد أربع صور فيما إذا أنشأ أحد دار آخر ….. 2- المنشئ لنفسه بأمر صاحب الدار والعرصة. لو أنشأ الزوج في عرصة زوجته لنفسه دارا بإذنها كان هذا الإذن إما إعارة أو إجارة وقد مرت أحكامهما في المادتين ( 531 و 831 ) . والواقع أنه وإن قال  صاحب مجمع الأنهر قبل كتاب الفرائض: "ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له، والعرصة لها، ولایؤمر  بالتفریغ إن طلبته"، فبما أنه مخالف لمواد المجلة المارة الذکر، فمن البدیهی أن لایعمل به.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       28/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب