03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانور بے قابو ہونے پر ذبح کی صورت
80507قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

قربانی کا جانور اگر بھاگ جائے تو کیا حکم ہے؟کچھ جانور ایسے ہوتے ہیں کہ پکڑنا آسان ہوتاہے،جبکہ بعض جانور پکڑ میں بھی نہیں آتے اور نقصان کا بھی خدشہ ہوتاہے،ایسی صورت میں انہیں ذبح کرنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟گولی مارنے سے جانور قابو میں آجائے یا مرجائے تو کیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر جانور بے قابو ہو کر ہاتھ سے چھوٹ جائے اور پکڑنے میں نہ آئے تو ذبح اضطراری بھی جائز ہے، یعنی چھری، وغیرہ کسی دھار دار آلہ پر بسم اﷲ پڑھ کر ذبح کی نیت سے دور سے مار دے، وہ جانور کے جسم میں جس جگہ بھی لگ جائے اور جانور ہلاک ہو جائے تو جانور حلال ہو جائے گا۔

بکری آبادی میں بھاگ جائے یا کنویں وغیرہ میں گر جائے تو ذبح اضطراری جائز نہیں ،کیونکہ پیچھا کر کے اسے قابو میں لایا جاسکتا ہے اور صحراء میں بھاگ جائے تو ذبح اضطراری جائز ہے۔

اونٹ یا گائے، بھینس بے قابو ہو کر بھاگ جائیں تو بہر صورت ذبح اضطراری جائز ہے، خواہ آبادی میں بھاگیں یا صحراء میں۔

اسی طرح جانور نے کسی پر حملہ کردیا اور اس نے بنیت ذبح بسم اﷲ پڑھ کر اسے کسی دھاری دار چیز سے قتل کردیا تو بھی حلال ہو جائے گا۔

گولی مارنے سے اگر جانور مر گیا تو اس کاکھانا حلال نہیں ،اگر وہ زخمی ہوا ہے اور پھر شرعی طریقے سے ذبح کردیا تو پھر حلال ہے۔

 

حوالہ جات

(الفتاوی الھندیۃ، 5/285):

"وأما الاضطرارية فركنها العقر وهو الجرح في أي موضع كان وذلك في الصيد، وكذلك ما ند من الإبل والبقر والغنم بحيث لا يقدر عليها صاحبها لأنها بمعنى الصيد، وإن كان مستأنسا، وسواء ند البعير والبقر في الصحراء أو في المصر فذكاته العقر، كذا روي عن محمد - رحمه الله تعالى -، وأما الشاة إن ندت في الصحراء فذكاتها العقر، وإن ندت في المصر لم يجز عقرها،

وكذلك ما وقع منها في قليب فلم يقدر على إخراجه ولا مذبحه ولا منحره.وذكر في المنتقى في البعير إذا صال على رجل فقتله وهو يريد الذكاة حل أكله؛ لأنه إذا كان لا يقدر على أخذه صار بمنزلة الصيد. "

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

28/ذیقعدہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب