| 80534 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ عورت کو طلاق یا خلع ہو جانے کے بعد چھوٹے بچوں کو کس عمرمیں والد کے حوالے کیا جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میاں بیوں کے درمیان علیحدگی ہو جانے کے بعد فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول یہ لکھا ہے کہ بچے کو سات سال تک اور بچی کے بالغ ہونے تک پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے، البتہ اگر ماں بچہ/بچی کے کسی غیرمحرم شخص سے شادی کر لے یا کوئی مستقل ملازمت اختیار کر لے، جس کی وجہ سے دن کا اکثر حصہ باہر رہنا پڑتا ہو اور اس سے بچوں کی تربیت میں حرج لازم آتا ہو تو اس صورت میں ماں کا حق ساقط ہو جائے گا اورپھر بچوں کی نانی کو پرورش کا حق حاصل ہو گا، اگر وہ نہ ہو تو دادی کو ، پھربہن کو، پھر خالہ کو اورپھرپھوپھی کو بالترتیب حق ملے گا۔اور اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو یا وہ پرورش کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو اس صورت میں بچی کی تربیت کا حق باپ کو حاصل ہوتا ہے، اگر باپ بھی موجود نہ ہو تو پھر دادا کو حقِ پرورش ملتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 555) دار الفكر-بيروت:
مطلب: شروط الحضانة: قال الرملي: ويشترط في الحاضنة أن تكون حرة بالغة عاقلة أمينة قادرة، وأن تخلو من زوج أجنبي، وكذا في الحاضن الذكر سوى الشرط الأخير، هذا ما يؤخذ من كلامهم. اهـ.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283) دار احياء التراث العربي - بيروت:
" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي " ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون..... ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب
وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " لأنها من الأمهات …… فإن لم تكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات ….. وتقدم الأخت لأب وأم " لأنها أشفق " ثم الأخت من الأم ثم الأخت من الأب " لأن الحق لهن من قبل الأم " ثم الخالات أولى من العمات " ترجيحا لقرابة الأم " وينزلن كما نزلنا الأخوات " معناه ترجيح ذات قرابتين ثم قرابة الأم " ثم العمات ينزلن كذلك وكل من تزوجت من هؤلاء يسقط حقها " لما روينا ولأن زوج الأم إذا كان أجنبيا يعطيه نزرا وينظر إليه شزرا فلا نظر۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/ذوالقعدة 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


