| 80691 | نماز کا بیان | نما زکے جدید مسائل |
سوال
میں فوجی یونٹ کے مذہبی معاملات کا ذمہ دار ہوں۔ ہمارے یہاں بعض سپاہی پہرے کی ڈیوٹی چھوڑ کر مسجد نماز پڑھنے آتے ہیں، یہاں حالات اچھے نہیں ، جمعہ کی نماز کو بعد میں انفرادی پڑھ سکتے ہیں؟ دوپہر دو بجے سے آٹھ بجے تک ڈیوٹی ہوتی ہے۔ فقہ جعفریہ والے جمع بین الصلوتین کر لیتے ہیں۔ ہمارے والوں سے عصرو مغرب قضا ہو جاتی ہیں۔ اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ساتھی آپس میں ایسی ترتیب بنائیں کہ پہلے نماز کے دوران ایک جماعت پہرے پر رہیں اور دوسرے ساتھی مسجد کی جماعت سے نماز پڑھ لیں، اس کے بعدپہرہ دینے والے کسی دوسری قریبی مسجد میں نماز پڑھنے جائیں اور نماز پڑھنے والے ان کی جگہ پران کے آنے تک کچھ وقت کے لیے پہرہ دے دیں، اور اگر قریب میں مسجد نہ ہو تو خود بھی آپس میں ملک کر مسجد کی جماعت سے پہلے یا بعد میں بھی عام نماز اورجمعہ کی نماز باجماعت پڑھ سکتے ہیں،خطبہ کے لیے چھوٹی کوئی دو سورتیں درمیان میں مختصر وقفہ کر کے پڑھی جاسکتی ہیں اور خطبہ سے پہلےتقریر کوئی مسنون عمل نہیں، بلکہ محض ایک جائز امرہے،لہذا اس کی ضرورت نہیں۔ البتہ جہاں دوسرے ساتھی دستیاب نہ ہوں تو ایسی صورت میں پہلے سے باوضو رہیں اور جماعت کے بعد وقت ختم ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر بھی مختصر نماز پڑھی جاسکتی ہے، بہتر یہ ہے کہ اس میں بھی ایک دو افراد کو شامل کر کے جماعت سے پڑھی جائے۔البتہ نماز کو قضاء کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں،اور جمع بین الصلوتین کی یہ صورت اس مجبوری میں درست ہےکہ ظہراورعصر کو مثل ثانی میں پڑھ لیں اورمغرب وعشاء کوشفق ابیض غروب ہونےسےپہلےپڑھ لیں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۳۰ذی الحجہ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


