| 80631.62 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
بندہ نے زمین ٹھیکے پردی ہوئی ہے، زمین پر بجلی کی مؤثر ٹربائن لگائے ہیں جوکہ میرے اور میرے بھتیجوں کے درمیان مشترک ہیں۔ میرے بھتیجوں کے جو کرایہ دار ہیں وہ اپنی مقررہ باری کے دن بجلی کے عملہ کے ساتھ مل کر بجلی چوری کرنا چاہتے ہیں اورمجھ سے اجازت مانگ رہےہیں،اگر میں اجازت دیتا ہوں تو کیا میں بھی گنہگار ہوں گا یا نہیں ؟آیا شریعت میں بجلی چوری کی کوئی گنجائش ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ بجلی چوری کرنا شرعاً ، اخلاقاً اور قانوناً جرم ہے۔
لہذا سوال میں ذکر کی گئ صورت کے مطابق آپ کے لیے بجلی چوری کرنے کی اجازت دینا شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ اگر آپ کی اجازت نہ دینے کے باوجود وہ بجلی چوری کریں تو وہ اپنے عمل کی وجہ سے خود گنہگار ہوں گے، آپ پر اس کا کوئی وبال نہیں ۔
حوالہ جات
مصنف عبد الرزاق: (414/7، ط: المکتب الاسلامی)
أنه سمع أبا هريرة يقول: «لا يزني حين يزني وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر وهو مؤمن حين يشرب» قال: لا أعلمه إلا قال: «وإذ اعتزل خطيئته رجع إليه الإيمان»
(الدر المختار، کتاب الغصب / مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر ۹؍۲۹۱ زکریا)
لا یجوز التصرف في مال غیرہ بلا إذنہ ولا ولایتہ.
عدنان اختر
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
۲۴؍ذوالحجہ؍۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


