03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شاملات کی زمین پر عید کی نماز ادا کرنا
80634نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

کیا آبادی کے درمیان شاملات زمین پر عیدین کی نماز ادا کرنا جائز ہے، جب کہ شاملات کے مالکان کے حصص متعین نہ ہوں اور بعض مالکان وہاں پر عیدین کی نماز ادا کرنے پر راضی نہ ہوں؟ نیز اگر مذکورہ صورت حال میں اس زمین پر عیدین کی نماز ادا کی جاتی ہو تو اس زمین پر نماز ادا کرنا بہتر ہے یا جامع مسجد میں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گاؤں کے متصل اتنی زمین جوگاؤں والوں کی مشترکہ ضرورتوں کے لئے مثلاچراگاہ یاایندھن کے حصول کے لئے ضروری ہواس کو شاملات کہتے ہیں اور یہ کسی شخص کی ملکیت نہیں ہوسکتی ،یہ زمین پورے گاؤں کی مشترک زمین ہوتی ہے اوراس پر گاؤں کے تمام باشندوں کاحق ہوتاہے۔

اجتماعی مقاصد میں ہونے کی وجہ سے شاملات  زمین کو جہاں کھیل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ،نمازِجنازہ ادا کی جاسکتی ہے،وہیں عید کی نماز بھی ادا کی جاسکتی ہےاگرچہ اس میں بعض لوگ راضی نہ ہو کیونکہ عید کی نماز کی ادائیگی تمام مصالح میں مقدم ہے۔

نیز مذکورہ صورت میں اس زمین پر عیدین کی نماز ادا کرنا جامع مسجد میں ادا کرنے سے بہتر ہے،کیونکہ آپﷺ کا معمول یہ تھا کہ عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے شہر  اور آبادی سے باہر کسی کھلی جگہ اور عیدگاہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔

حوالہ جات

صحيح البخاري )2/ 18(

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى المُصَلَّى….

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 2/ 168

"(ماشيا إلى الجبانة)وهي المصلى العام، والواجب مطلق التوجه (والخروج إليها) أي الجبانة لصلاة العيد (سنة وإن وسعهم المسجد الجامع) هو الصحيح."

 

البحر الرائق(2/171)

"(قوله ثم يتوجه إلى المصلى) ... وفي التجنيس والخروج إلى الجبانة سنة لصلاة العيد، وإن كان يسعهم المسجد الجامع عند عامة المشايخ هو الصحيح اهـ.

 

وفي المغرب الجبانة المصلى العام في الصحراء...حتى لو صلى العيد في الجامع، ولم يتوجه إلى المصلى فقد ترك السنة."

محمدمصطفیٰ رضا

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

24/ذو الحجہ/1444ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب