| 80650 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میرا نام آفتاب ولد سید محمد جلال الدین ہے،مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی سے ڈیڑھ مہینہ قبل لڑائی ہوئی اور بات تھانہ پولیس تک جا پہنچی، میری بیوی کے گھر والے اسے اپنے گھر لے گئے میں بہت پریشان تھا، بہت غصے میں تھا ،پھر میرے گھر والوں نے مجھ پہ بہت زور ڈالا ہوا تھا، مجھ سے زبردستی کی اور مجھے ذہنی طور پر بہت پریشان کر دیا اور بس یہ کہنے لگے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے،جبکہ میں نہیں دینا چاہتا تھا، میرے دل میں کوئی ارادہ نہیں تھا ، میں اپنے دل سے بالکل اس چیز پہ راضی نہیں تھا ،لیکن میرے گھر والوں نے مجھے بہت پریشان کیا ہوا تھا ان کا کہنا تھا اگر تو طلاق نہیں دے گا تو ہم سے تیرا کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور انہوں نے مجھ سے زبردستی طلاق دلوائی اور پیپر میری بیوی کے گھر بھجوا دیے،23 جون 2023ءکو تین دفعہ طلاق لکھوا کے بھجوا دی،اب میں بہت پریشان ہوں اور میں رجوع کرنا چاہتا ہوں اور یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب میری طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ جب طلاق کےپیپر میری بیوی کے پاس پہنچے تو وہ حالت حیض سے تھی اور وکیل نے ایک مہینے میں ایک طلاق نہیں بھیجی ایک ساتھ تین طلاق بھیجی اور میری بیوی سے ریسیو(Receive)کروا لی، اس کے چار دن بعد میری اپنی بیوی سے موبائل پرصلح اور رجوع ہوا ، اب میں بہت پریشان ہوں اور اپنی بیوی سے شرعی رجوع کرنا چاہتا ہوں، آپ رہنمائی فرمائیں کیا ہماری طلاق ہوئی ہے یا نہیں اور میں کس طرح سے اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہوں؟ تاکہ ہم ایک ساتھ زندگی گزار سکیں ۔
وضاحت: مجھے بہت زیادہ پریشان کیا ہوا تھا بہت زیادہ مینٹلی ٹارچر کیا ہوا تھا، انہوں نے صاف بول دیا تھا کہ تو اور تیری بیوی اس گھر میں اب قدم نہیں رکھے گی اگر وہ اس گھر میں ائی تو ہم اسے نہیں چھوڑیں گے اور ترا ہم سے یعنی ماں اوربھائی سے کوئی واسطہ نہیں رہے گا، میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی تھی اور مجھے بہت ڈرایا گیا تھا،کیونکہ لڑائی ہوئی تھی اس وجہ سے مجھے ڈرایا گیا تھا کہ تیری بیوی کے گھر والے تجھے جان سے مار دیں گے، اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا بس مجھے یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ واقعی وہ مجھے مار دیں گے، حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا، لیکن انہوں نے مجھے ایسے ڈرایا ہوا تھا، ابھی بھی میرے گھر والوں نے مجھے بہت پریشان کیا ہوا ہے کہ میں اپنی بیوی سے موبائل پہ رابطہ کیوں رکھ رہا ہوں اور کیوں اس سے رجوع کرنا چاہ رہا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق اگر واقعتاً آپ کے گھر والوں نے آپ کو پریشان کن حد تک طلاق دینے پر مجبور کر دیا تھا اور طلاق نہ دینے کی صورت میں آپ کو یقین تھا کہ وہ آپ سے واقعی قطع تعلق کر لیں گے، نیز قطع تعلقی کے نتیجے میں آپ کے لیے واقعی غیر معمولی حقیقی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتااس صورت میں بغیر طلاق کی نیت کے طلاق نامہ پر صرف دستخط (زبان سے طلاق دیے بغیر)کرنے سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ زبردستی کی حالت میں بغیر نیت کے لکھ کر دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
لیکن اگر آپ کو قطع تعلقی کا یقین نہیں تھا یا یقین تو تھا مگر اس کے نتیجہ میں آپ کے لیے کوئی حقیقی مشکلات پیدا ہونے کی صورت نہیں تھی، صرف اخلاقی دباؤ کی حد تک پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا تو پھر آپ کی دی ہوئی تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، باقی یہ فیصلہ آپ نے اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر کرنا ہے کہ قطع تعلق کی دھمکی اور اس کے نتائج واثرات کس نوعیت کے تھے؟
حوالہ جات
فتاوى قاضيخان (1/ 234) فخر الدين حسن بن منصور الأوزجندي المتوفى :592ھ:
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلأنة بنت فلأن ابن فلأن فكتب امرأته فلأنة بنت فلأن بن فلأن طالق لا تطلق امرأته لأن الكابة أقيمت مقالم العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 129) دار الفكر-بيروت:
(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا.
قال ابن عابدين: (قوله: يعدم الرضا) أي مع بقاء الاختيار الصحيح، وإلا فالإكراه بمتلف يعدم الرضا أيضا ولكنه يفسد الاختيار كما قدمناه.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 80) دار الكتاب الإسلامي:
(فلو أكره على بيع أو شراء أو إقرار أو إجارة بقتل أو ضرب شديد أو حبس مديد خير بين أن يمضي البيع أو يفسخ) ولما كان الإكراه تارة يقع في حقوق العباد وأخرى في حقوق الله تعالى وحق العبد مقدم لحاجة العبد إليه قدمه ولما كان الإكراه على نوعين ملجئ وغير ملجئ وكل منهما يفسد الرضا الذي هو شرط الصحة لهذه العقود فكذا ذكر القتل والضرب ولما كان لا فرق بين أن يكره على بيع هذا أو بيع ولم يعين جاء بالعبارة منكرة قيد بضرب شديد وحبس مديد؛ لأنه لو قال أضربك سوطا أو سوطين أو أحبسك يوما أو يومين فإنه لا يكون إكراها قال في المحيط إلا إذا قال له لأضربنك على رأسك أو عينك أو مذاكرك فإنه يكون إكراها؛ لأن مثل هذا إذا حصل في هذه الأعضاء قد يفضي إلى التلف وفي المحيط قال مشايخنا إلا إذا كان الرجل صاحب منصب يعلم أنه يتضرر بضرب سوط أو حبس يوم فإنه يكون إكراها.
وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 175) دار الكتب العلمية،بيروت:
وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
23/ذوالحجہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


