03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح میں مختلف شرائط لگانا
80625نکاح کا بیاننکاح صحیح اور فاسد کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نکاح کے موقع پر مختلف شرائط رکھوانا شرعا درست ہے؟ یہ شرط رکھنا کہ لڑکا (خاوند) لڑکی(بیوی) کو ماہانہ یا روزانہ کی بنیاد پر خرچہ دیا کرے گا؟ اس کے علاوہ طلاق دینے پر لڑکی کو مقررہ جرمانہ دے گا؟ اور مہر میں مہر فاطمی یا زیادہ مہر مقرر کرنا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح میں یہ شرط لگانا کہ اگر لڑکے نے طلاق دی تو وہ  مقررہ جرمانہ ادا کرے گا، یہ شرط فاسد ہے،اور شرط فاسد کا حکم نکاح کے باب میں یہ ہے کہ نکاح اگر شریعت کی بیان کردہ شرائط کے مطابق کیا گیا ہے تو نکاح درست ہوجائے گا البتہ شرط فاسد لغو قرار دی جائے گی۔

نکاح میں ماہانہ یا روزانہ کی بنیاد پر خرچہ دینے کی شرط لگانا مباح ہے، اور اس طرح کی مباح شرائط  کا حکم نکاح کے باب میں یہ ہے کہ انہیں پورا کرنا وعدے اور باہمی معاہدے ‏کی وجہ سے شوہر پر اخلاقاً واجب ہے، اور انہیں بلا عذر پورا نہ کرنے کی صورت میں ‏شوہر کو وعدہ خلافی کا گناہ ملے گا، البتہ نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

مہر کی کم سے کم مقدار 10درہم (30گرام 618ملی گرام) چاندی یا اس کی قیمت ہے۔ اس سے زائد فریقین باہمی رضا مندی سے جو مہر طے کریں اس کی پابندی شوہر پر لازم ہوگی۔ لڑکے کی استطاعت ہو تو مہر فاطمی مقرر کرنا مستحب ہے، لیکن ضروری نہیں۔ مہر فاطمی سےزیادہ مہر بھی مقرر کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اگر لڑکے کی استطاعت نہ ہو یا صرف دکھلاوے کے لیے بہت زیادہ مہر مقرر کرلینا شرعاً ناپسندیدہ ہے۔

حوالہ جات

عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (140/20، ط: دار إحياء التراث العربي)

عن عبد الرحمن بن غنم قال: شهدت عمر، رضي الله تعالى عنه، قضى في ‏رجل شرط لامرأته دارها، فقال: لها شرطها. فقال رجل: إذا يطلقها؟ فقال: إن ‏مقاطع الحقوق عند الشروط، والمقاطع جمع مقطع، أراد أن المواضع التي تقطع ‏الحقوق فيها عند وجود الشروط، وأراد به الشروط الواجبة فإنها يجب الوفاء ‏بها.‏ واختلف العلماء في الرجل يتزوج المرأة ويشترط لها أن لا يخرجها من دارها أو لا ‏يتزوجا عليها أو لا يتسرى أو نحو ذلك من الشروط المباحة على قولين: ‏أحدهما: أنه يلزمه الوفاء بذلك، ذكر عبد الرزاق وابن عبد المنذر عن عمر بن ‏الخطاب، رضي الله تعالى عنه، أن رجلا شرط لزوجته أن لا يخرجها، فقال ‏عمر: لها شرطها. ثم ذكرا عنه ما ذكره البخاري، وقال عمرو بن العاص: أرى ‏أن يفي لها شروطها، وروي مثلها عن طاووس وجابر بن زيد، وهو قول الأوزاعي ‏وأحمد وإسحاق، وحكاه ابن التين عن ابن مسعود والزهري، واستحسنه بعض ‏المتأخرين. والثاني: أن يؤمر الزوج بتقوى الله والوفاء بالشروط ولا يحكم عليه ‏بذلك حكما، فإن أبى إلا الخروج لها كان أحق الناس بأهله إليه ذهب عطاء ‏والشعبي وسعيد بن المسيب والنخعي والحسن وابن سيرين وربيعة وأبو الزناد ‏وقتادة، وهو قول مالك وأبي حنيفة والليث والثوري والشافعي.

سنن أبى داود (2/ 199)

2108 - حدثنا محمد بن عبيد حدثنا حماد بن زيد عن أيوب عن محمد عن أبى العجفاء السلمى قال خطبنا عمر رحمه الله فقال ألا لا تغالوا بصدق النساء فإنها لو كانت مكرمة فى الدنيا أو تقوى عند الله لكان أولاكم بها النبى -صلى الله عليه وسلم- ما أصدق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- امرأة من نسائه ولا أصدقت امرأة من بناته أكثر من ثنتى عشرة أوقية.

رد المحتار (9/ 333)

( ولكن لا يبطل ) النكاح ( بالشرط الفاسد و ) إنما ( يبطل الشرط دونه ) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 188)

(أقله عشرةدراهم) لحديث البيهقي وغيره لا مهر أقل من عشرة دراهم.

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۴/ذو الحجہ/۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب