03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈاڑھی کے حدود
80672جائز و ناجائزامور کا بیانناخن ،مونچھیں اور ،سر کے بال کاٹنے وغیرہ کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!

ٹھوڑی کے نیچے اور نرخرے کے اوپر جو نرم حصہ ہوتا ہے(جہاں جبڑے کی ہڈی نہیں ہوتی)کیا وہاں کے بال کاٹ سکتے ہیں۔ کیونکہ متعدد لوگوں کو میں نے اس حصے اور گالوں کے بالوں کو مونڈھا ہوا دیکھا ہے۔ کیا یہ داڑھی کے حدود میں شامل نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کانوں کے پاس جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہے، وہاں سے داڑھی کی ابتداء ہے، اور پورا جبڑا داڑھی میں شامل ہے، اس کے علاوہ رخسار پر موجود زائد بال داڑھی کا حصہ نہیں ہیں، ان زائد بالوں کا خط بنوانے کی گنجائش ہے،

ٹھوڑی اور جبڑے کی ہڈی کے بالوں کے علاوہ بالوں کو کاٹنا اور اس کا خط بنوانا جائز ہے، لیکن داڑھی کی حد میں شامل بالوں کو ایک مٹھی سے کم کرانا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6 / 407):

"ولا بأس بنتف الشيب، وأخذ أطراف اللحية والسنة فيها القبضة."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 418):

"لا بأس بأخذ أطراف اللحية إذا طالت."۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

28/ذی الحجہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب