03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حاملہ بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں حمل کی پرورش کا حکم
80703طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

میں نے اپنی بیوی کو اس نافرمانی، میری خدمت نہ کرنے، شادی شدہ ہوتے ہوئے کسی اور سے تعلق بنانے اور اس کے بار بار مطالبے پر بامر مجبوری تین طلاقیں دیدی ہیں۔ اس کے پیٹ میں چار ماہ کا بچہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہونے والے بچے کی ذمہ داری کس پر کب تک عائد ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی کے درمیان طلاق ہوجانے کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اور لڑکی کے بالغ ہونے تک پرورش کا حق ماں کو ہے، بشرطیکہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے اس کا حقِ پرورش ختم ہو، مثلا بچے کے نامحرم کے ساتھ شادی کرنا۔ اس کے بعد والد اپنے بچوں کو لینے کا حق رکھتا ہے۔ بچے ماں باپ میں سے جس کے پاس بھی ہوں، ان سے ملنے اور ملاقات کرنے کا حق دونوں کو حاصل ہوگا، کسی ایک کا بچوں کو دوسرےسے ملنے نہ دینا جائز نہیں۔

واضح رہے کہ اگر بچوں کی ملکیت میں مال نہ ہو تو  لڑکے کے بالغ ہونے  تک اور لڑکی کی شادی  تک ان کے تمام ضروری اخراجات شرعاً  والد کے ذمےواجب  ہیں،البتہ اگر بچوں کی ملکیت میں ذاتی مال موجود  ہوتو پھر ان کا خرچہ شرعاً والد کے ذمے لازم نہیں ہوگا۔  

حوالہ جات

الدر المختار (3/ 565):

(و) الحاضنة (يسقط حقها بنكاح غير محرمه) أي الصغير، وكذا بسكناها عند المبغضين له؛ لما في القنية: لو تزوجت الأم بآخر فأمسكته أم الأم في بيت الراب فللأب أخذه. ...…. (وتعود) الحضانة (بالفرقة) البائنة لزوال المانع والقول لها في نفي الزوج، وكذا في تطليقه إن أبهمته لا إن عينته. (والحاضنة) أما أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع وبه يفتى؛ لأنه الغالب، ولو اختلفا في سنه ، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إلیه  ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.

الفتاوى الهندية (1/ 560):

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة……… ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

         28/ ذو الحجۃ /1444ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب