03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“نرسنگ ہوم “میں مردکاعورتوں کی یاعورت کامردوں  کی دیکھ بھال کرنا
80729جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !میرے ایک دوست ڈاکٹر ہیں،جو آج کل انگلینڈ میں جاب کر رہے ہیں انہوں نے ایک سوال پوچھا ہےکہ وہاں انگلینڈ میں  نرسنگ ہوم ہے، جہاں پر بوڑھے لوگ  ہوتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرنی ہوتی  ہے، جس میں ان کی شرمگاہوں کو صاف کرنا، کپڑے بدلنا،  نہلانا اور کھانا کھلاناہوتاہےاس سب میں مرد ، عورت کی کوئی تمیز  نہیں ،ایسی صورت میں کیا مرد عورت کی یا عورت مرد کی دیکھ بھال کر سکتا ہے۔۔۔؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں مردکاعورت کی دیکھ بھال کرنایاعورت کامردکی دیکھ بھال کرنا(ان کی شرمگاہوں کو صاف کرنا،کپڑےبدلنا،نہلانا)شرعاجائزنہیں،مذکورہ بالاکاموں کوانجام دینےکےلیےخواتین کےلیےملازمہ خواتین کوہی رکھاجائےوہ بھی شرمگاہ پرکوئی کپڑارکھ کراورہاتھ پرکوئی گلپزوغیرہ پہن کریہ کام انجام دی سکتی ہیں،اس کےبغیرنہیں،اسی طرح مردوں کےلیےملازم مردوں کوہی رکھاجائے،یہ ملازمین بھی ہاتھ پرکوئی دستانہ وغیرہ پہن کریہ کام انجام دےسکتےہیں،ملازم مردوں پربھی لازم ہوگاکہ شرمگاہ کی طرف دیکھنےسےاجتناب کریں،مذکورہ بالاامورمیں چونکہ بےپردگی کاغالب گمان ہوتاہے،اس لیےایسی جاب سےحتی الامکان احترازلازم ہے۔

واضح رہےکہ شریعت  میں پردےکےاہتمام کابہت تاکید سےحکم آیاہے،حتی کہ اگرکوئی عورت مریض  ہو،اس کاشوہرنہ ہواورا س کو پیشاب پاخانہ کروانےوالی کوئی عورت نہ ہویاکوئی مردبیمار ہو،اس کی بیوی موجود نہ ہو،اوراس کو پیشاب پاخانہ کروانےوالا کوئی مرد نہ ہو توایسی صورت میں مردوعورت دونوں کےحق میں استنجاء کاحکم ہی ساقط ہوجاتاہے،ایسی حالت میں بھی کسی مرد یاعورت کےلیےیہ کام کرنےکی اجازت نہیں دی گئی ،اگرچہ ان کااپناقریبی رشتہ دار(مثلا عورت کےلیےوالدہ،بیٹی ،بہن  وغیرہ اورمردکےلیے ،باپ ،بھائی بیٹاوغیرہ)ہی کیوں نہ ہو ۔

کسی مسلمان کےلیےاس طرح کےمخلوط نرسنگ ہوم میں کام کرناشرعاجائزنہیں ،ہاں مرد صرف مردوں کی دیکھ بھال کاکام کرے اور عورت صرف عورتوں کی دیکھ بھال کاکام کرےاوردیگرغیرشرعی امورسےاجتناب کیاجائے تواس کی شرعاگنجائش ہوگی۔

حوالہ جات

وقال اللہ تعالی ایضا{ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ الخ الآیۃ  ۔ سورۃ الاحزاب : 31

"تفسير ابن كثير"6 /  44:

هذا  أمْرٌ من الله تعالى للنساء المؤمنات، وغَيْرَة  منه لأزواجهنّ، عباده المؤمنين، وتمييز لهن عن صفة نساء الجاهلية وفعال المشركات. وكان سبب نزول هذه الآية ما ذكره مقاتل بن حيَّان قال: بلغنا -والله أعلم -أن جابر بن عبد الله الأنصاري حَدَّث: أن "أسماء بنت مُرْشدَة" كانت في محل لها في بني حارثة، فجعل النساء يدخلن عليها غير مُتَأزّرات فيبدو ما في أرجلهن من الخلاخل، وتبدو صدورهن وذوائبهن، فقالت أسماء: ما أقبح هذا. فأنزل الله: { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ } الآية۔

فقوله تعالى: { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ } أي: عما حَرَّم الله عليهن من النظر إلى غير أزواجهن. ولهذا ذهب [كثير من العلماء] (8) إلى أنه: لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى الأجانب بشهوة ولا بغير شهوة أصلا۔

"ردالمحتار" 9 / 449

:وفی تنویرالأبصار وماحل نظرہ حل لمسہ الامن أجنبیۃ فلایحل مس وجھہاوکفیہاوان أمن الشہوۃ لانہ اغلظ الی قولہ الخلوۃ بالاجنبیۃ حرام ۔

" حاشية رد المحتارج 1 / 438:

ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الامام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنةعنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لان ذلك ليس بصحيح، فإنا نجيز الكلام مع النساء للاجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها، لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم۔

ولاینظر من اشتھی الی وجھھاالاالحاکم والشاہد وینظرالطبیب الی موضع مرضہا،والاصل انہ لایجوز ان ینظر الی وجہ الاجنبیۃ بشہوۃ لمارویناالاللضرورۃ ۔

"البحرالرائق" 8 353 :

وقال فی نظرالطبیب الی موضع مرضہا۔۔۔۔ثم ینظر ویغض بصرہ عن غیرذالک الموضع ان استطاع لان ماثبت بالضرورۃ تتقدر بقدرھا۔

"الفتاوى الهندية " 2 /  224:

المرأة المريضة إذا لم يكن لها زوج وعجزت عن الوضوء ولها ابنة أو أخت توضئها ويسقط عنها الاستنجاء، كذا في فتاوى قاضي خان ۔

"الفتاوی التاتارخانیۃ 1"/ 218:

المرأۃ المریضۃ إذا لم یکن لہا زوج، وھي لا تقدر علی الوضوء، ولہا بنت، وفي الخانیۃ: أو أخت، قال: توضأھا البنت بالماء الطہور، ویسقط عنہا الاستنجاء۔

(الحلبى الكبير : ٤٠)

الرجل المريض اذا لم يكن له امرأة و لا أمة و له ابن اؤ اخ و هو لا يقدر على الوضوء فإنه يوضئه الابنه اؤ الأخوه غير الاستنجاء إلا أنه لا يمس فرجه ، وسقط عنه الاستنجاء ۔

"ردالمحتار علی الدرالمختار "340/1:

الرجل المريض إذا لم تكن له إمرأة ولا أمة و له إبن او أخ و هو لا يقدر علي الوضوء، قال يوضئه إبنه أو أخوه غير الإستنجاء؛ فإنه لا يمس فرجه و يسقط عنه"

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

29/ذی الحجۃ      1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب