| 80696 | طلاق کے احکام | بیمار کی طلاق کا بیان |
سوال
میرے والد ماجد (Bipolar affective disorder) کی بیماری میں 2017ء سے مبتلی ہے۔ وہ پہلے ہی میری والدہ کو دو طلاقیں دے چکے ہیں۔اب انہوں نے 11 جولائی 2023ء کو ان الفاظ کے ساتھ والدہ کو مخاطب کرکے تیسری طلاق بھی دے دی ہے"میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔ میں اپنے حوش و حواس میں ہوں ایسے ہی ہے جاؤ نکلو۔" سائل نے طویل تحریر میں والد کے کچھ نامعقول واقعات کا تذکرہ کیا ہے جس سے اس کا مذکورہ بیماری میں مبتلیٰ ہونے کا اور ذہنی مریضوں کی طرح حرکات کرنے کا پتہ چلتا ہے۔ اب سائل یہ دریافت کرنا چاہتا ہے کہ :
- اس تمام تفصیل کی روشنی میں پوچھنا یہ ہے کہ طلاق کا کیا حکم ہے؟
- اگر طلاق ہوگئی ہے تو دونوں میاں بیوی بڑھاپے میں ہیں۔ شوہر کی عمر 58 سال ہے جبکہ بیوی کی عمر 45 سال ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تو طلاق کی صورت میں اکھٹے رہنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے کہ آپ کے والد کو بیماری کی وجہ سے شدید غصہ آتا ہے جس میں آپ کے والد اپنے حواس اور ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں، تب بھی ہمارے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ آپ کے والد نے طلاق کس کیفیت میں دی ہے؟ اگر والدہ کو مخاطب کرتے وقت والد جانتے تھے کہ وہ بیوی کو طلاق دینے کے لیے مخاطب کر رہے ہیں‘ ان کو معلوم تھا کہ طلاق دینے کا مطلب اور نتیجہ کیا ہوگا اور ان کو یہ بھی یاد ہے کہ اس نے بیوی سے کیا بات کی اور اسے کن الفاظ میں کتنی بار طلاق دی ہے تو طلاق واقع ہوچکی ہے۔ اس کے برعکس اگر والد نے مخاطب طلاق دینے کے لیے نہیں کیا تھا، چھوٹی بہن کی حرکت کی وجہ سے اچانک غصے میں آئے اور غصے میں اپنا آپ کھو بیٹھے، حواس قائم نہ رہے اور اس نے جو منہ میں آیا بول دیا‘ بعد میں کسی نے بتایا کہ تم نے طلاق بھی دے دی ہے۔ تب احساس ہوا کہ غلطی ہوگئی، اس کیفیت میں ان کے کہے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی اور اس میں دی ہوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔
ہم نے دونوں صورتیں بیان کر دی ہیں، یہ فیصلہ والد نے کرنا ہے کہ طلاق دیتے وقت ان کی کیفیت کیا تھی۔ اسی کے مطابق طلاق کے واقع ہونے یا نہ ہونے کا حکم لگے گا۔ مسئلہ چونکہ حرام و حلال کا ہے اس لیے خدا کو حاضر ناظر جان کر وہ خود دیکھیں کہ طلاق دیتے ہوئے وہ کس کیفیت میں تھے۔
طلاق واقع ہونے کی صورت میں بغیر حلالہ شرعیہ کے آپس میں رہنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 244)
وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية....... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش و نحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله و أفعاله الخارجة عن عادته و كذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال و الأفعال لاتعتبر أقواله و إن كان يعلمها و يريدها؛ لأنّ هذه المعرفة و الإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لاتعتبر من الصبي العاقل."
عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
30/ذی الحجہ/ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


