| 80716 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
خریداری کرتے وقت دکان میں موجود کھانے پینے کی چیزوں کو چکھنا جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بعض دکاندار کوالٹی چیک کرنے کی غرض سے چیزوں کو چکھنے کے لیے گاہک کو پیش کرتے ہیں ،اگر خریداری کی نیت ہو تو چکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں اگرچہ چکھنے کے بعد پسند نہ آئے ، بلاوجہ چکھنا درست نہیں ،اور جن دکانداروں کی یہ عادت نہ ہو یا چکھنے والے کی خریداری کی نیت نہ ہو تو بغیر صریح اجازت کے ان کی چیزیں چکھنا جائز نہیں اور اگر چکھ لیں تو ان کا ضمان دینا یا ان سے معاف کرانا شرعاً لازم ہوگا ۔
حوالہ جات
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (9/ 404):
قال رسول الله ألا بالتخفيف للتنبيه لا تظلموا أي لا يظلم بعضكم بعضا كذا قيل والأظهر أن معناه لا تظلموا أنفسكم وهو يشمل الظلم القاصر والمتعدي ألا للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه وأن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه والتخصيص لديه لا يحل مال امرىء أي مسلم أو ذمي إلا بطيب نفس أي بأمر أو رضا منه رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 27):
(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه.
محمد جمال ناصر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
01/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمال ناصر بن سید احمد خان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


