| 80715 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
نیٹ ورک مارکیٹنگ جائز ہے یا نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہماری معلومات کے مطابق نیٹ ورک مارکیٹنگ(Network Marketing)یا ملٹی لیول مارکیٹنگ (Multi Level Marketing) میں بہت سےمفاسد ہونے کی وجہ سے ان سے منسلک ہونا ناجائز ہے۔ چند ایک کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے:
اس میں مصنوعات بیچنا اصل مقصد نہیں ہے، بلکہ ممبر سازی کے ذریعے کمیشن در کمیشن کاروبار چلانا اصل مقصد ہے جو کہ جوئے کی ایک نئی شکل ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جیسے جوئے میں پیسے لگاکر یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ اسے کچھ نہ ملے اور یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ اسے بہت سارے پیسے مل جائیں، اسی طرح مذکورہ کمپنی سے منسلک ہونے کے بعد کام کرنے میں یہ امکان بھی ہے کہ سائل کو کچھ نہ ملے (انفرادی طور پر مطلوبہ پوائنٹس تک نہ پہنچنے کی وجہ سے) اور یہ امکان بھی ہے کہ اسے بہت سے پوائنٹس مل جائیں۔(انفرادی طور پر اور ٹیم کی شکل میں مطلوبہ پوائنٹس تک پہنچنے کی وجہ سے۔) شرعی طور پر دلال (ایجنٹ) کو اپنی دلالی کی اجرت (کمیشن) ملتی ہے جو کہ کسی اور کی محنت کے ساتھ مشروط نہیں ہوتی، لیکن مذکورہ کمپنی کے ممبر کی اجرت دوسرے ما تحت ممبران کی محنت پر مشروط ہوتی ہے جو کہ شرعاً درت نہیں۔ لہذا نیٹ ورک مارکیٹنگ کے ساتھ منسلک ہونا اور دوسروں کو اس میں شامل کراکے کمیشن وصول کرنا، ناجائز ہے۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (8/ 158):
وقد نهى النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عن بيع الملامسة والمنابذة. ولأن فيه تعليقا بالخطر.
الموسوعة الفقهية الكويتية (41/ 375، بترقيم الشاملة آليا)
وقال ابن حجر المكّي : الميسر : القمار بأيّ نوع كان , وقال المحلّي : صورة القمار المحرّم التّردد بين أن يغنم وأن يغرم .
وقال مالك : الميسر : ميسران , ميسر اللّهو وميسر القمار فمن ميسر اللّهو النّرد والشّطرنج والملاهي كلها , وميسر القمار ما يتخاطر النّاس عليه . وبمثل ذلك قال ابن تيمية .
الموسوعة الفقهية (6/ 82):
صورة القمار ، يغنم إن سبق ولا يغرم إن سبق.
محمد جمال ناصر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
01/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمال ناصر بن سید احمد خان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


