| 80712 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
سوال یہ ہے کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا رات کے وقت اندھیرے کی وجہ سے میں نے بھول کر ہلکا سا ہاتھ ٹچ کیا آپ کے والدہ کے ماتھے کے سائیڈ پر( یعنی زید کی ساس) اور زید کہتا ہے میں نے ہاتھ کو دبایا بھی نہیں اور پتہ چل گیا تو زید اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ بری نیت سے ہاتھ لگانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور زید کو بیوی بولتی ہے: آپ کی نیت بری تھی تو زید کہتا ہے نہیں،پھر زید بولتا ہے کہتے ہیں نا شہوت سے ہاتھ لگانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہےتو زید سے بیوی پوچھتی ہے آپ کو شہوت تھی کیا؟ تو زید بولے وہ تو بندہ جس طرح بیوی کے پاس اٹھانے کی خاطر ہاتھ لگاتا ہے تو زید کی بیوی اس گفتگو کو سننے کے بعد شدید خوف زدہ ہیں کہ کہیں حرمت لازم تو نہیں آئی ؟آپ علماء کرام ہماری رہنمائی کریں ،کیا زید کی اس گفتگو میں شہوت سے چھونے کا اقرار کرنے کا قرینہ موجود ہے ؟یا مزید اس بارے زید سے تحقیق کی جائے جب تک کوئی بات زید کی طرف سے واضح نہ ہو جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حرمت مصاہرت کے لیے یہ شرط ہے کہ جس کو ہاتھ لگا شہوت بھی اسی پر ہو۔سؤال میں پوچھی گئی صورت میں بیوی کو جگانے کی نیت سے زید کا ہاتھ ساس کے ماتے پر لگا ہے اور ایسی صورت میں اگر زیدکوپہلے سے اپنی بیوی پرشہوت ہو تو بھی حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی،جب کہ پوچھی گئی صورت میں شوہر کی طرف سے شہوت ہونے کا نہ اقرار ہے اور نہ ہی یقین ہے تو ایسی صورت میں حرمت مصاہرت کا حکم ثابت نہیں ہوگا،لہذا زید سےمزید تحقیق وتفتیش کی ضرورت نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 33)
قلت: ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا.۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۳۰ذی الحجہ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


