03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تجدید نکاح کی صورت
80688نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کی تجدید نکاح کے وقت بیوی اگر موجود نہیں ہے اور اس نےفون پر اپنے ہی شوہر کو اختیار دے دیا اپنے ساتھ نکاح کا اور شوہر نے دو گواہوں کے سامن بیوی کا نام اور اس کے والد کا نام لیئے بغیر یہ کہا کہ تم دونوں گواہ رہنا کہ اتنے حق مہر کے ساتھ میں نے اسے اپنے نکاح میں قبول کر لیا ہے یا پھر ایسا کہے کہ اتنے حق مہر میں ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نکاح میں قبول کر لیا ہے(اور آخر میں کہا بیوی کا نام لے کر کہا کہ رضیہ جسکو آپ جانتے ہی ہو رضیہ ولد عامر خان) جب کہ گواہوں کو پہلے سے بھی معلوم تھا کہ یہ تجدید نکاح ہے اور کس کا کس سے نکاح ہو رہا ہے یہ بھی معلوم تھا تو کیا نکاح ہو گیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر اپنی بیوی کی طرف سے وکیل بالنکاح بن سکتا ہے، بعد توکیل اگر شوہر شرعی گواہوں کی موجودگی میں اپنی طرف سے ایجاب اور بیوی کی طرف سے قبول کرلے تو نکاح ہوجائے گا ، بیوی سے اجازت لینا بہر حال ضروری ہے ۔

مذکورہ صورت میں شوہر نے بیوی کی اجازت سے اس کے وکیل کی حیثیت سےنئے مہر کے ساتھ اس کا نکاح خود سے  کیا ہے، اور گواہوں کو  بھی معلوم  تھا کہ  تجدیدِ نکاح ہو رہا ہے، لہٰذا بیان کیے گئے طریقے سے تجدید نکاح درست ہے، نکاح ہوگیا ہے۔

حوالہ جات

الھداية: (197/1)

وإذا أذنت المرأة للرجل أن يزوجها من نفسه فعقد بحضرة شاهدين جاز.

الدر المختار: (97/3)

ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر.

الفتاوی الھندیۃ: (295/1)

مرأة وكلت رجلا بأن يزوجها من نفسه فقال: زوجت فلانة من نفسي يجوز، وإن لم تقل: قبلت كذا في الخلاصة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 113):

"[تنبيه] في القنية: جدد للحلال نكاحاً بمهر يلزم إن جدده لأجل الزيادة لا احتياطاً اهـ أي لو جدده لأجل الاحتياط لاتلزمه الزيادة بلا نزاع، كما في البزازية".

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

29/ذی الحجہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب