| 80688 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کی تجدید نکاح کے وقت بیوی اگر موجود نہیں ہے اور اس نےفون پر اپنے ہی شوہر کو اختیار دے دیا اپنے ساتھ نکاح کا اور شوہر نے دو گواہوں کے سامن بیوی کا نام اور اس کے والد کا نام لیئے بغیر یہ کہا کہ تم دونوں گواہ رہنا کہ اتنے حق مہر کے ساتھ میں نے اسے اپنے نکاح میں قبول کر لیا ہے یا پھر ایسا کہے کہ اتنے حق مہر میں ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نکاح میں قبول کر لیا ہے(اور آخر میں کہا بیوی کا نام لے کر کہا کہ رضیہ جسکو آپ جانتے ہی ہو رضیہ ولد عامر خان) جب کہ گواہوں کو پہلے سے بھی معلوم تھا کہ یہ تجدید نکاح ہے اور کس کا کس سے نکاح ہو رہا ہے یہ بھی معلوم تھا تو کیا نکاح ہو گیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر اپنی بیوی کی طرف سے وکیل بالنکاح بن سکتا ہے، بعد توکیل اگر شوہر شرعی گواہوں کی موجودگی میں اپنی طرف سے ایجاب اور بیوی کی طرف سے قبول کرلے تو نکاح ہوجائے گا ، بیوی سے اجازت لینا بہر حال ضروری ہے ۔
مذکورہ صورت میں شوہر نے بیوی کی اجازت سے اس کے وکیل کی حیثیت سےنئے مہر کے ساتھ اس کا نکاح خود سے کیا ہے، اور گواہوں کو بھی معلوم تھا کہ تجدیدِ نکاح ہو رہا ہے، لہٰذا بیان کیے گئے طریقے سے تجدید نکاح درست ہے، نکاح ہوگیا ہے۔
حوالہ جات
الھداية: (197/1)
وإذا أذنت المرأة للرجل أن يزوجها من نفسه فعقد بحضرة شاهدين جاز.
الدر المختار: (97/3)
ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر.
الفتاوی الھندیۃ: (295/1)
مرأة وكلت رجلا بأن يزوجها من نفسه فقال: زوجت فلانة من نفسي يجوز، وإن لم تقل: قبلت كذا في الخلاصة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 113):
"[تنبيه] في القنية: جدد للحلال نكاحاً بمهر يلزم إن جدده لأجل الزيادة لا احتياطاً اهـ أي لو جدده لأجل الاحتياط لاتلزمه الزيادة بلا نزاع، كما في البزازية".
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
29/ذی الحجہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


