| 80722 | نکاح کا بیان | نسب کے ثبوت کا بیان |
سوال
میری شادی کو 13 سال ہوچکے ہیں، اللہ پاک نے دو بیٹیاں عنایت کی ہیں۔ بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے میری اہلیہ بہت پریشان رہتی ہیں۔ مَیں نے ایدھی سینٹر سے ایک لڑکا گود لینے کا ارادہ کیا ہے۔ اس سے متعلق میرے دو سوالات ہیں:
1. لے پالک بچہ کے والد کی جگہ مَیں اپنا نام: محمد کلیم اللہ لکھوا سکتا ہوں؟ یعنی اس بچہ کو اپنے حقیقی باپ کی جگہ میرے نام سے پکارنا جائز ہے؟
2. اگر اس بچے کے والدین خصوصاً والد معلوم نہ ہو، تو مَیں والد کی جگہ اپنا نام لکھوا سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(2-1) واضح رہے کہ کوئی بچہ یا بچی صرف پالنے کے لیے بطورِ لے پالک لینا، دینا جائز ہے، لیکن گود لینےکی وجہ سے وہ (بچہ/بچی) حقیقی اولاد نہیں بنتی، بلکہ نسب، حقِ پرورش، ولایتِ نکاح اور میراث وغیرہ تمام احکام کا تعلق شرعاً اس کے اصل والدین سے ہوتا ہے، پالنے والے سے نہیں۔
لہٰذا سوال میں مذکورہ صورت میں گود لیے ہوئے بچہ کی ولدیت میں آپ کا اپنا نام بطور والد لکھوانا یا پکارنا جائز نہیں ہے، چاہے بچے کا باپ معلوم ہو یا نا معلوم ہو۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ایسا بچہ گود لیں جس کے والد معلوم ہوں، تاکہ کاغذی کاروائیوں میں باپ کا نام لکھنے کی مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
حوالہ جات
الوجيز للواحدي (ص:858):
"{ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} أي: انسبوهم إلى الذين ولدوهم {هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} أعدل عند الله {فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ} من هم {فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ} أي: فهم إخوانكم في الدين {وَمَوَالِيكُمْ} وبنو عمكم، وقيل: أولياؤكم في الدين {وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ} وهو أن يقول لغير ابنه: يا بني من غير تعمد أن يجريه مجرى الولد في الميراث وهو قوله: {وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ} يعني: ولكن الجُناح في الذي تعمدت قلوبكم."
صحيح البخاري (1469/4):
عن عائشة - رضي الله عنها -، زوج النبي - صلى الله عليه وسلم -: أن أبا حذيفة، وكان ممن شهد بدرا مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، تبنى سالما، وأنكحه بنت أخيه هند بنت الوليد بن عتبة، وهو مولى لامرأة من الأنصار، كما تبنى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - زيدا، وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس إليه وورث من ميراثه، حتى أنزل الله تعالى: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} [الأحزاب: 5]. فجاءت سهلة النبي - صلى الله عليه وسلم -، فذكر الحديث."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
01/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


