03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرآن پر ہاتھ رکھنے سے قسم کا حکم
80834قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

زید اور فاطمہ نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ وعدہ کیا کہ ایک دوسرے کی زندگی میں اور مرنے کے بعد کسی اور سے شادی نہیں کریں گے،اب زید کے والدین اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اس کی دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں اور زید کے انکار کی صورت میں وہ اسے ناحق قرار دیتے ہیں،اب زید کے لئے کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زبان سے قسم کے الفاظ بولے بغیر محض قرآن پر ہاتھ رکھنے سے قسم منعقد نہیں ہوتی،اس لئے اگر زید اور فاطمہ نے باقاعدہ زبان سے قرآن یا اللہ کا نام لے کر قسم نہیں کھائی، بلکہ محض قرآن پر ہاتھ رکھ کر مذکورہ جملے بولے تھے کہ "ہم ایک دوسرے کی زندگی میں اور مرنے کے بعد کسی اور سے شادی نہیں کریں گے" تو ان الفاظ سے شرعاً کوئی قسم منعقد نہیں ہوئی اور زید دوسری شادی کرسکتا ہے۔

 لیکن اگر ان دونوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ الفاظ کہے کہ "ہم قرآن کی قسم کھاتے ہیں کہ ایک دوسرے کی زندگی میں  اور مرنے کے بعد کسی اور سے شادی نہیں کریں گے" توپھر ان الفاظ سے قسم منعقد ہوچکی ہے، اور اس قسم کے توڑنے پرزید کے ذمے کفارہ لازم ہوگا۔

قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو صبح شام (دو وقت) پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے یا دس مساکین میں سے ہر مسکین کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدی جائے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑوں کادے دیا جائے، اور اگر قسم کھانے والا غریب ہے اور مذکورہ امور میں سے کسی پر اس کو استطاعت نہیں ہے، تو پھر کفارہ قسم کی نیت سے مسلسل تین دن تک روزے رکھنے سے بھی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔

نیز اگر یہ وعدہ کرتے وقت زید کی اسے پورا کرنے کی نیت تھی،لیکن اب اولاد نہ ہونے کی مجبوری کی وجہ سے وہ دوسری شادی کرنا چاہ رہا ہے تو اسے وعدہ خلافی کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 712):

"(لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا. وأما الحلف بكلام الله فيدور مع العرف. وقال العيني: وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا".

"البحر الرائق " (4/ 311):

"(قوله: والنبي والقرآن والكعبة) أي لا يكون حالفا بها؛ لأن الحلف بالنبي والكعبة حلف بغير الله تعالى لقوله - صلى الله عليه وسلم - «من كان حالفا فليحلف بالله، أو ليذر» والحلف بالقرآن غير متعارف مع أنه يراد به الحروف والنقوش، وفي فتح القدير: ثم لا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا كما هو قول الأئمة الثلاثة".

"شرح القسطلاني " (1/ 119):

"وخلف الوعد لا يقدح إلا إذا كان العزم عليه مقارنًا للوعد، أما لو كان عازمًا ثم عرض له مانع أو بدا له رأي فهذا لم يوجد منه صورة النفاق. وفي حديث الطبراني ما يشهد له حيث قال: إذا وعد وهو يحدّث نفسه أنه يخلف، وكذا قال في باقي الخصال. وإسناده لا بأس به وهو عند الترمذي وأبي داود مختصرًا بلفظ: إذا وعد الرجل أخاه ومن نيّته أن يَفِي له فلم يَفِ فلا إثم عليه وهذا في الوعد بالخير، أما الشر فيستحب إخلافه وقد يجب".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

05/محرم 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب