| 80797 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
زاہد نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے، جبکہ مہر میں پانچ (5) تولہ سونا یا تین (3) لاکھ روپے نکاح نامہ میں درج ہے۔ نکاح کے وقت لڑکی کو ساڑھے تین تولہ سونا دیدیا تھا اور کچھ عرصہ بعد آدھا تولہ دیا، باقی صرف ایک تولہ بچا۔ یہ رشتہ بارہ سال بعد طلاق پر ختم ہوا۔ تقریبا پانچ (5) سال پہلے زاہد کی بیوی نے شوہر کے مطالبے کے بغیر اپنی مرضی سے اپنے مہر کا دو تولہ سونا شوہر کی والدہ کو بغیر کسی شرط یا ڈیمانڈ کے بطورِ ہبہ دیا۔ اب رشتہ ٹوٹنے کے بعد وہ تین (3) تولہ سونا مانگ رہی ہے، ایک تولہ جو باقی تھا اور دو تولے جو اس نے اپنی ساس کو خود بیچنے کے لیے ہبہ کیا تھا، ساس نے وہ دو تولہ سونا ایک لاکھ سات ہزار روپے میں بیچ دیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ مطالبہ کرسکتی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں زاہد نے جو ایک تولہ سونا اپنی بیوی کو نہیں دیا تھا وہ طلاق کے بعد بھی اس کو دینا لازم ہے، وہ زاہد کی مطلقہ بیوی کا زاہد کے ذمے قرض ہے جس کا وہ بہر صورت مطالبہ کرسکتی ہے۔ جہاں تک اس دو تولہ سونے کا تعلق ہے جو زاہد کی بیوی نے اپنی ساس کو دیا تھا تو اگر واقعۃً اس نے اپنی دلی رضامندی سے وہ سونا اپنی ساس کو ہبہ کیا تھا اور ساس نے اسے بیچ دیا تھا تو اب وہ اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی، لیکن اگر اس نے دلی رضامندی سے ہبہ نہیں کیا تھا، بلکہ کسی مجبوری کی وجہ سے دیا تھا، یا ہبہ نہیں کیا تھا، بلکہ بطورِ قرض دیا تھا تو پھر اس کو ان دو تولوں کی واپسی کے مطالبے کا بھی حق حاصل ہوگا۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
6/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


