03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لے پالک بیٹی کو ایک بیٹی کے برابر حصہ دینے کی وصیت کا حکم
80798میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مجھے میری پھوپھی نے گود لیا تھا، جبکہ ان کی حقیقی اولاد چار ہیں، تین بیٹے اور ایک بیٹی۔ میری پھوپھی اور پھوپھا دونوں نے اپنی تمام حقیقی اولاد کو تاکید کی تھی کہ ہمارے مرنے کے بعد میری بھتیجی کو سوتیلا یا غیر مت سمجھنا اور ایک لڑکی کا شرعی اعتبار سے جو حصہ بنے وہ لازمی دینا۔ ان کے انتقال کے بعد جب وراثت تقسیم کرنے کا سلسلہ چلا تو میرے دو غیر حقیقی بھائیوں کا موقف ہے کہ ہم اپنی اس لے پالک بہن کو بھی لازمی حصہ دیں گے؛ کیونکہ ہمارے والدین نے ہم سب کو تاکید کی ہے، جبکہ ایک غیر حقیقی بھائی اور بہن کہتے ہیں کہ والدین نے بھلے کہہ دیا ہو، شریعت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں کہ وراثت کس طرح دی جائے گی اور مجھے کچھ حق ملے گا یا نہیں؟ میرے ان دو غیر حقیقی بھائیوں کا موقف درست ہے جو کہتے ہیں کہ والدین کی وصیت کے مطابق مجھے حصہ دیا جائے یا اس غیر حقیقی بھائی اور بہن کا موقف درست ہے جو کہتے ہیں کہ میرا شریعت میں کوئی حصہ نہیں بنتا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شریعت میں کسی بچے یا بچی کو بطورِ لے پالک پالنے سے نسب اور میراث وغیرہ شرعی احکام تبدیل نہیں ہوتے، لے پالک صرف لے پالک ہونے کی وجہ سے میراث کا حق دار نہیں بنتا۔ البتہ اگر لے پالک کو پالنے والے اس کے لیے وصیت کریں تو ان کے ترکہ سے تجہیز و تکفین کے اخراجات (اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان نہ کیے ہوں) اور قرضے (اگر ان پر قرضے ہوں) ادا کرنے کے بعد باقی ماندہ مال کے ایک تہائی حصے تک اس وصیت کو پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔ اگر وصیت ایک تہائی سے زائد ہو تو اس زائد پر عمل کرنا لازم نہیں، بلکہ ورثا کی رضامندی پر موقوف ہوتا ہے۔  

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کی پھوپھی اور پھوپھا نے واقعۃً اپنی حقیقی اولاد کو وصیت کی تھی کہ ہمارے انتقال کے بعد ہماری لے پالک کو ایک بیٹی کے برابر حصہ دیں تو چونکہ اس صورت میں ایک بیٹی کا حصہ ایک تہائی سے کم بن رہا ہے، اس لیے ان کی حقیقی اولاد پر یہ وصیت پوری کرنا اور آپ کو (میراث کے طور پر نہیں، بلکہ وصیت کی وجہ سے) ایک بیٹی کے برابر حصہ دینا لازم ہے۔

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       6/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب