03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ،والدہ،دوبیٹوں اوردوبیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
80806میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 نواب علی کے ایک بیٹے وقار علی صاحب کا انتقال 2000 میں ہوگیا، ان کے ورثاء میں بیوی، والدہ، 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں تھیں،ان کاترکہ اب کیسے تقسیم ہوگا؟

نوٹ: وقارعلی کاانتقال ہوچکاہے،ترکہ ابھی تقسیم نہیں ہواہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے انتقال کے وقت  جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے(اس میں نواب علی مرحوم کے ترکہ میں سے ملنے والامال بھی شامل ہے)،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر  ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد  باقی مال کوموجود ورثہ میں تقسیم کردیں۔

نمبرشمار

ورثہ کی تفصیل

فیصدی حصہ

1

بیوہ

12.5

2

والدہ

16.6666

3

بیٹا

23.6110

4

بیٹا

23.6110

5

بیٹی

11.8055

6

بیٹی

11.8055

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


 

حوالہ جات

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۷/محرم الحرام ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب