| 80896 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
عبدالرحمن کا بقضاء الہی انتقال ہوگیا،مرحوم نے پسماندگان میں تین بیٹے رحیم خان،جمعہ خان،فتح محمد، تین بیٹیاں عائشہ،حلیمہ،صابرہ اور ایک بیوہ چھوڑی،ان مذکورہ بالا ورثا کے ہوتے ہوئے چچا کے بیٹے عبدالقدوس،حبیب داد اور باغوان مرحوم عبدالرحمن کی میراث آپس میں تقسیم کرسکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ بالا ورثا کے ہوتے ہوئے مرحوم کے چچا کے بیٹوں کا میراث میں کوئی حصہ نہیں،اس لئے انہیں ترکہ کو آپس میں تقسیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (6/ 774):
"(ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا).....
(ثم جزء جده العم) لأبوين ثم لأب ثم ابنه لأبوين ثم لأب (وإن سفل ثم عم الأب ثم ابنه ثم عم الجد ثم ابنه) كذلك وإن سفلا فأسبابها أربعة: بنوة ثم أبوة ثم أخوة ثم عمومة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
14/محرم 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


