| 80897 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد کا انتقال 1980 ء میں ہوا تھا، اور میری والدہ کا انتقال 2017 ء میں ہوا تھا۔میری والدہ کی ملکیت میں سونے کے زیور اور کچھ رقم تھی، جو ابھی ہمارے (والدہ کے ورثاء) کے پاس امانت کے طور پر موجود ہے ۔ ہم چار بھائی اور تین بہنیں تھے۔ ایک بھائی سعید اختر کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہوگیا تھا، ان کی بیوہ اور ایک بیٹا اور بیٹی حیات ہیں۔والدہ کے انتقال کے وقت ہم تین بھائی اور تین بہنیں تھیں۔مرحومہ کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔
والدہ کی جائیداد ورثاء میں کس طرح (کس شرح) سے تقسیم کی جائے، ہماری رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی والدہ مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں سونا، چاندی،نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے۔اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ترکہ میں سے سب سے پہلے ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 9 حصے کر کے درج ذیل نقشے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے۔
نوٹ: جس بیٹے کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہوگیا تھا، وہ وارث نہیں ہوگا۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
بیٹا 1 |
2 حصے |
22.2222% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 2 |
2 حصے |
22.2222% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 3 |
2 حصے |
22.2222% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹی 1 |
1 حصے |
11.1111% (عصبہ بغیرہ) |
|
بیٹی 2 |
1 حصے |
11.1111% (عصبہ بغیرہ) |
|
بیٹی 3 |
1 حصے |
11.1111% (عصبہ بغیرہ) |
|
کل |
9 حصے |
100 % |
حوالہ جات
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
15/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


