03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زمین سے سونا نکالنے کے لیے لائیسنس لینے کا حکم
80926جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے کہ ہمارے گاؤں میں دریائے سندھ کے کنارے اکثر لوگ اپنی ملکیتی زمینوں میں ریت کو مخصوص مشینوں کے ذریعے چھان کر سونا نکالتے ہیں۔ یہ ایک پسماندہ علاقہ ہے اس لئے لوگوں نے اپنا ذریعہ معاش یہی بنایا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مذکورہ وسیلہ کو ذریعہ معاش بنانا بغیر مخصوص لائیسنس کے اور بغیر ادائیگی ٹیکس کے غیر قانونی ہے۔ جس کی بنا پر لوگ محکمہ معدنیات کے اہلکاروں سے چھپ کر سونا نکالتے ہیں جبکہ محکمہ معدنیات کے اہلکاروں کے چھاپے کے دوران پکڑے جانے کی صورت میں کچھ پیسے دے کر جان چھڑا لیتے ہیں۔اس صورت میں سوال یہ ہے کہ مذکورہ معدنیات کو ذریعہ معاش بنانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس طرح چھپ کر اپنی ہی ملکیتی زمین میں سونا نکالنا جائز ہے؟ نیز مذکورہ مسئلہ میں حکومتی ٹیکس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ براہ کرم شریعت کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے حکومتی ٹیکسز سے متعلق چند باتیں ذہن نشین کرلیں کہ شریعت کی طرف سے بیت المال کی آمدنی کے لیے درج ذیل ذرائع مقرر ہیں:

زکاة،عشر،خراج،جزیہ،خمسِ غنائم، مالِ فییٔ، خمسِ معادن، خمسِ رکاز، گمشدہ اموال،  ضوائع،  یعنی لا وارث مال ، لاوارث شخص کی میراث وغیرہ، ان کے علاوہ عام حالات میں حکومت کوعوام پر کوئی ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں، زمانہ جاہلیت میں حکمران محض اپنی عیش وعشرت کی خاطر تاجروں سے ظالمانہ ٹیکس وصول کرتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر ان کا خاتمہ فرمایا اور دورِ نبوی اور دورِ خلافتِ راشدہ میں مسلمانوں سے زکاة اور عشر کے علاوہ کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔ (شرح معانی الآثار:2/31) قرآن میں اس سے ممانعت آئی ہے،اور احادیث میں اس پر وعیدیں وارد ہیں،چنانچہ سورہ اعراف میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ } [الأعراف: 85] ترجمہ:"اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا،انہوں نے کہا: اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو،اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ،تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے،لہذا ناپ تول پورا پورا کیا کرو اور جو چیزیں لوگوں کی ملکیت میں ہیں ان میں حق تلفی نہ کرو"۔ علامہ آلوسی اور دیگر مفسرین رحمہم اللہ نے اس آیت میں موجود"لاتبخسوا"کی ایک تفسیر "لاتمکسوا" سے کی ہے یعنی لوگوں سے ناحق ٹیکس مت وصول کرو،چونکہ حضرت شعیب علیہ السلام کے با اثر افراد عام لوگوں سے ہر چیز پر ناحق ٹیکس وصول کرکے ان کی حق تلفی کیا کرتےتھے ،اس لیے انہیں اس سے منع کیا گیا۔ (روح المعاني:4/413)

احادیث مبارکہ میں بھی ناحق ٹیکس وصول کرنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث مروی ہے جس میں آپ کا یہ ارشاد منقول ہے: " لایدخل الجنة صاحب مکس" یعنی ٹیکس لینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اس حدیث کو علامہ حاکم رحمہ اللہ نے "مستدرک"(1/562) میں نقل فرمایا ہے اور اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے۔ اسی طرح حضرت عٕثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"حضرت داود علیہ السلام رات کے ایک متعین وقت میں اپنے گھر والوں کو جگا کر فرماتے:" اے آل داود!اٹھ کر نماز پڑھو،کیونکہ یہ ایسی گھڑی ہے جس میں اللہ تعالی جادوگر اور ٹیکس لینے والے کے علاوہ ہر ایک کی دعاء قبول فرماتے ہیں"۔ (مسنداحمد:26/208) لہذا عام حالات میں حکومت کے لیے مسلمان عوام پر زکاة اور عشر کے علاوہ اضافی ٹیکس مقرر کرنے کی اجازت نہیں۔

 البتہ اگر کسی اسلامی مملکت پر کوئی ایسا وقت آپڑے کہ قومی خزانے کی رقم عوامی ضروریات اور مصالح کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہوجائے جیسا کہ آج کل حکومتوں کو بہت سی ایسی خدمات فراہم کرنی پڑتی ہیں جو پہلے حکومتوں کی ذمہ داری نہیں ہوا کرتی تھی، مثلا: ملک میں بجلی اور گیس کی فراہمی،نیز بہت سے ایسےشعبے جوپہلےاگر ہوتے بھی تھے،لیکن ان کے اخرجات اتنے زیادہ نہیں ہوتے تھےجتنے آج کل بڑھ گئے ہیں ،مثلا :دفاع کے لیے جدید ہتھیاروں کی تیاری،پختہ سڑکوں کی تعمیر،مواصلات کے جدید ذرائع،ابلاغ کے وسائل،تعلیم اور صحت،ان میں سے ہر شعبے کے اخراجات بے پناہ ہیں اور ان میں سے بیشتر میں زکاة اور عشر کی رقوم بھی استعمال نہیں ہوسکتیں،لہذا اگر قومی خزانے میں موجود رقم ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہو تو اس صورت میں فقہاء کرام نے درج ذیل شرائط کے ساتھ صرف بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش دی ہے:

  1. حکومت کے مصارف کو اسراف وتبذیر سے پاک کیا جائے۔
  2. ٹیکس اتنا ہی لگایا جائے جو ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہو،یہاں تک کہ قومی خزانے میں وسعت پیدا ہوجائے۔
  3. ٹیکس عائدكرنے میں انصاف سے کام لیا جائے،یہ نہ ہو کہ کسی پر بہت زیادہ ٹیکس عائد ہو اور اسی قسم کے دوسرے شخص پر اس سے کم لگایا جائے۔
  4. قومی خزانہ خالی ہو، یعنی اس میں موجود مال درپیش ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہو۔
  5. ٹیکس کی رقم ملک وملت کی حقیقی ضرورتوں اور مصالح پر خرچ کی جائے،بے جا ضائع نہ کی جائے۔
  6. لوگوں پر ان کی حیثیت کے مطابق ٹیکس لگایا جائے،یعنی ٹیکس کی شرح اتنی زیادہ نہ مقرر کی جائے جس کی ادائیگی لوگوں کے لیے بوجھ بن جائے۔

اگر حکومتی ٹیکسز میں درج بالا شرائط کی پاسداری کی جائے تو پورے ٹیکس کی ادائیگی لازم ہے اور اگر مذکورہ بالا شرائط کی پاسداری نہ کی جائے تو جتنا ٹیکس ناحق وصول کیا جارہا ہو اس سے بچنے کے لیے حیلہ اور کوئی مناسب تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے،باقی یہ بات کہ حکومت کتنی مقدار جائز وصول کررہی ہے اور کتنی ناجائز؟اس بارے میں ٹیکسیشن کے ماہرین ہی بتاسکتے ہیں،ہر فرد کے بارے میں یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے ناجائز ٹیکس لیا جارہا ہے،ہاں اگر کوئی شخص محسوس کرتا ہے اور اسے ٹیکسیشن نظام کے بارے میں یقین ہے کہ اتنی مقدار غیر ضروری اور ناجائز ہے اور وہ اس مقدار کو حیلہ کرکے بچالیتا ہے تو اگرچہ آخرت میں شاید اس کا گناہ نہ ہو اور یہ بچائی گئی رقم حلال بھی ہو،لیکن موجودہ قوانینِ حکومت کی رو سے یہ جرم ہوگا اور اس کی سزا میں جان،مال،عزت کو خطرہ ہے تو اس سے بچنا بھی ضروری ہے۔

بالا تفصیل کے مطابق سوال کا جواب مطالع فرمائیں :

بغیر لائیسنس کے ایسا کام خلاف قانون اور موجِب سزا ہونے ہونے کی وجہ سے قابلِ پرہیز ہے، لہٰذا اس کو ذریعہ معاش بنانے سے اجتناب بہتر ہے، البتہ اگر کسی نے یہ کام کرکے آمدنی حاصل کی ہے تو وہ جائز ہوگی۔

ٹیکسز سے بچنے کے لیے رشوت دینا اور صریح جھوٹ بولنا بہرحال  ناجائز اور گناہ ہے، لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار" (5/ 330):

"(قوله: وكذا النوائب) جمع نائبة وفي الصحاح النائبة المصيبة واحدة نوائب الدهر اهـ، وفي اصطلاحهم ما يأتي. قال في الفتح قيل أراد بها ما يكون بحق كأجرة الحراس وكري النهر المشترك والمال الموظف لتجهيز الجيش وفداء الأسرى إذا لم يكن في بيت المال شيء وغيرهما مما هو بحق، فالكفالة به جائزة بالاتفاق؛ لأنها واجبة على كل مسلم موسر بإيجاب طاعة ولي الأمر فيما فيه مصلحة المسلمين ولم يلزم بيت المال أو لزمه ولا شيء فيه وإن أريد بها ما ليس بحق كالجبايات الموظفة على الناس في زماننا ببلاد فارس على الخياط والصباغ وغيرهم للسلطان في كل يوم أو شهر فإنها ظلم"

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 427)

الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام قال: وهو الحق قال تعالى - {قتل الخراصون} [الذاريات: 10]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 427)

 واعلم أن الكذب قد يباح وقد يجب والضابط فيه كما في تبيين المحارم وغيره عن الإحياء أن كل مقصود محمود يمكن التوصل إليه بالصدق والكذب جميعا، فالكذب فيه حرام، وإن أمكن التوصل إليه بالكذب وحده فمباح إن أبيح تحصيل ذلك المقصود، وواجب إن وجب تحصيله.

فتح القدير (16/ 240)

قال شمس الأئمة : هذا كان في ذاك الزمان لأنه إعانة على الجائحة والجهاد ، أما في زماننا فأكثر النوائب تؤخذ ظلما ، ومن تمكن من دفع الظلم عن نفسه فهو خير له ، وإن أراد الإعطاء فليعط من هو عاجز عن دفع الظلم عن نفسه لفقير  يستعين به الفقير على الظلم وينال المعطي الثواب .

عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

19/محرم الحرام/ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب