03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معاشی تنگی کے باعث غیر مسلم ممالک میں رہائش اختیار کرنا
80940جائز و ناجائزامور کا بیانکفار کے ساتھ معاملات کا بیان

سوال

ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال کی وجہ سے آج کل تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں روزگار کی تلاش میں امریکا ،یورپ، اسٹریلیا اور برطانیہ جارہے ہیں، اور مستقل بنیادوں پر وہاں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں، نوجوان طبقے کے علاوہ درمیانی عمر کے لوگ بھی اپنی خراب معاشی صورتحال اور تنگدستی کی وجہ سے درج بالا ممالک میں ملازمت کے مواقع  ڈھونڈ رہے ہیں اور مستقل بنیادوں پر اپنی فیملی کے ساتھ ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔

 آپ سے درخواست ہے کہ رہنمائی فرمائیں کہ حصول روزق یا معاش کے لیے غیر مسلم ممالک میں وقتی طور پر چند سالوں کے لیے جانا  یا مستقل بنیادوں پر رہائش اختیار کرنے کے بارے میں دین اسلام میں کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی یا معقول وجہ کے(مثلا محض زیادہ مال کمانے یا دنیوی منصب کی ترقی کے لیے) غیر مسلم ممالک میں سکونت اختیار کرنا اور وہاں کی باقاعدہ شہریت حاصل کرنادرست نہیں، بلکہ قرآن وحدیث میں اس پر نکیر آئی ہے، البتہ اپنی جان یا مال کی حفاظت کے لیے یا کسی ضروری فن اورعلم  یا معاش کی تحصیل یا تبلیغ دین وغیرہ کے لیے وہاں سکونت اختیار کرنا اور وہاں کی شہریت حاصل کرنا جائز ہے،لیکن یہ یاد رہے کہ اپنے اور بچوں کے عقائد واعمال کی کڑی نگرانی رکھنا بہر صورت لازم ہے،اگر اس کا اہتمام نہ ہو سکتا ہو تو پھر اجتناب لازم ہے۔(ملخص  من "بحوث  فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ: ص۳۲۹)

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۹محرم۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب