| 81041 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
....... نامی لڑکی کی شادی ..... نامی لڑکے سے ہوئی، کئی سال گزرنے کے بعد ایک روز.......لڑکی رات کو اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا، وہ اٹھی تو اس کے بیڈ کے ساتھ اس کا سسر ..... کھڑا ہوا تھا، جو لڑکی کے جاگنے پر فوراً کمرے سے باہر نکل گیا، لڑکی کا کہنا ہے کہ اس دن اسے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کے سسر نے اسے چھیڑا تھا یا نہیں یا کہیں جسم پر ہاتھ لگایا تھا یا نہیں۔
پھر اس کے بعد دو مرتبہ ایسا ہوا کہ لڑکی ........ اپنے کمرے میں رات کو سو رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ اس کی چھاتیوں کو کسی نے ہاتھ لگایا ہے، جیسے ہی اسے محسوس ہوا تو وہ اٹھ گئی اور دیکھا کہ ہاتھ لگانے والا اس کا سسر تھا، دونوں مرتبہ اس کا سسر اس لڑکی کے اٹھنے پر کمرے سے باہر نکل گیا اور کوئی بات اس نے نہیں کی،ایسا اس وقت ہوا جب رات کو سب گھر والے سو رہے تھے اور لڑکی..... کا خاوند رات کی ڈیوٹی پر تھا۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ دونوں مرتبہ جب یہ واقعہ ہوا تو اس کے جسم پر کپڑے موجود تھے اور پہنے ہوئے کپڑوں کے علاوہ اس کا کہنا ہے وہ دوپٹہ بھی اوڑھ کر سوئی ہوئی تھی۔
جب یہ واقعہ ہوا تو لڑکی نے اپنے خاوند اور اپنی والدہ کو بتا دیا تھا، جنہوں نے اس بات کو دبا لیا اور بات کسی اور کو معلوم نہیں ہوئی۔اس واقعہ کے کچھ ماہ بعد لڑکی کے سسر کا انتقال ہو گیا۔ اب وہ اس مسئلے کے بارے میں رہنمائی چاہتی ہے کہ کیا اس واقعے سے اس کے نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے. کیا وہ اپنے خاوند کے ساتھ رہ سکتی ہے یا نہیں؟
وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ جب سسر نے ہاتھ لگایا تو فورا میری آنکھ کھل گئی تھی اور کپڑوں کی وجہ سے مجھے اس کے ہاتھ حرارت بھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً آپ کو سسر کے ہاتھ کی حرارت محسوس نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ سوال میں تصریح ہے تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی اور آپ کا نکاح ختم نہیں ہوا، کیونکہ حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے چند شرا۴ط کا پایا جانا ضروری ہے، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ چھونے والا بغیر کپڑے کے چھوئے یا اتنا باریک کپڑا ہوکہ اس کے اندر سے جسم کی حرارت محسوس ہو، اگر ایسا نہ ہو تو حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کا حکم نہیں لگے گا، باقی صرف شک سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، لہذا مذکورہ صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے آپ کا اپنے شوہر کے ساتھ رہنا شرعاً جائز ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 32) ودار الكتب العلمية:
(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا، والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته، به يفتى.
قال ابن عابدين: (قوله: بحائل لا يمنع الحرارة) أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب، وكذا لو جامعها بخرقة على ذكره.
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 47) دار الكتب العلمية، بيروت:
القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك: ودليلها ما رواه مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعا {إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتىيسمع صوتا، أو يجد ريحا}
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/محرم الحرام 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


