| 81421 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد مرحوم کی کل جائیداد اندازاً ڈھائی سے پونے تین کروڑ کے لگ بھگ ہے،زیادہ تر جائیداد کرایہ پر دی ہوئی ہے،ہم سب ورثا کرایہ کی رقم کی شرعی حساب سے تقسیم چاہتے ہیں،کرایہ کی رقم تقریبا ایک لاکھ روپے بنتی ہے اور ورثا میں ایک بیوہ،پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کرایہ کی مذکورہ بالا ایک لاکھ کی رقم میں سے٪5ء12 یعنی 12500 روپے مرحوم کی بیوہ کا حصہ ہے،جبکہ ٪5ء12 یعنی اتنی ہی رقم 12500 روپے مرحوم کے ہر بیٹے کو ملیں گے اور٪5ء6 یعنی اس سے آدھی رقم 6250 روپے مرحوم کی بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو ملیں گے۔
حوالہ جات
..........
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
22/ربیع الاول1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


