03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کا بیوی کے حق میں وصیت کا حکم
81422میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہماری والدہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ ہمارے مرحوم والد نے انہیں کہا تھا کہ میرے انتقال کے بعد جب تک تم زندہ رہو سب کچھ تمہارا ہے،پھراس کے بعد یہ جائیداد ساری اولاد کی ہوگی۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مرحوم والد کی اس بات اور اس پر عمل کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم کا قول وصیت کے حکم میں ہے،لیکن وارث کے لیے وصیت شرعامعتبر نہیں،لہذا ان کی اس وصیت کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ہے اور ان کی وفات کے وقت ان کی ملک میں جو کچھ بھی موجود تھا یعنی پلاٹ،سونا،نقدی یا اس کے علاوہ جو بھی چھوٹا بڑا سامان روزمرہ استعمال کی اشیاء سمیت  انہوں نے اپنی ملک میں چھوڑا ہے وہ سب ان کا ترکہ ہے،جس میں سب سے پہلے ان کی تکفین و تدفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے اگر کسی نے اپنی طرف سے نہ کیے ہوں،پھر ان کے ذمے اگر کسی کا قرض ہو وہ ادا کیا جائے گا،پھر اگر والدہ کے حق میں وصیت کے علاوہ کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال میں سے اس پر عمل کیا جائے گا۔

اس کے بعد جو کچھ باقی بچے گا وہ مذکورہ بالاتناسب سے تمام ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" (7/ 337):

"(ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة - رضي الله عنه - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث» وفي هذا حكاية، وهي ما حكي أن سليمان بن الأعمش - رحمه الله تعالى - كان مريضا، فعاده أبو حنيفة - رضي الله عنه - فوجده يوصي لابنيه، فقال أبو حنيفة: - رضي الله عنه - إن هذا لا يجوز، فقال: ولم يا أبا حنيفة فقال: لأنك رويت لنا أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «لا وصية لوارث» فقال سليمان - رحمه الله -: يا معشر الفقهاء أنتم الأطباء ونحن الصيادلة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/ربیع الاول1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب