| 80991 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیا دوسری زمین کا معاہدہ محض زمین دکھانے کے ذریعےایجاب وقبول کے بغیر مکمل ہوگیا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اجارے کے انعقاد کے لئے ایجاب و قبول ضروری ہے،اس کے بغیر اجارہ کا معاملہ وجودمیں نہیں آتا،مذکورہ صورت میں محمد حمزہ نے دوسری زمین کا محمد طیب کے ساتھ باقاعدہ معاملہ نہیں کیا،بلکہ محض وعدہ کیا وہ بھی اس شرط پر کہ وہ پہلے معاملے کو بحسن و خوبی اور امانت و دیانت کے ساتھ انجام دے،چونکہ محمد حمزہ کے بقول محمد طیب پہلے معاملے میں اس کی شرائط پر پورا نہیں اترا،اس لئے محمد حمزہ اپنے کئے گئے وعدے کی رو سے بھی محمد طیب کے ساتھ دوسری زمین کا معاملہ کرنے کا پابند نہیں ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (6/ 4):
"(وتنعقد بأعرتك هذه الدار شهرا بكذا) ؛ لأن العارية بعوض إجارة بخلاف العكس (أو وهبتك) أو أجرتك (منافعها) شهرا بكذا؛ أفاد أن ركنها الإيجاب والقبول".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
22/محرم 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


