03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجارہ کا وعدہ کرنے سے اجارہ منعقد نہیں ہوتا
80991اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

 کیا دوسری زمین کا معاہدہ محض زمین دکھانے  کے ذریعےایجاب وقبول کے بغیر مکمل ہوگیا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اجارے کے انعقاد کے لئے ایجاب و قبول ضروری ہے،اس کے بغیر اجارہ کا معاملہ وجودمیں نہیں آتا،مذکورہ صورت میں محمد حمزہ نے دوسری زمین کا محمد طیب کے ساتھ باقاعدہ معاملہ نہیں کیا،بلکہ محض وعدہ کیا وہ بھی اس شرط پر کہ وہ پہلے معاملے کو بحسن و خوبی اور امانت و دیانت کے ساتھ انجام دے،چونکہ محمد حمزہ کے بقول محمد طیب پہلے معاملے میں اس کی شرائط پر پورا نہیں اترا،اس لئے محمد حمزہ اپنے کئے گئے وعدے کی رو سے بھی محمد طیب کے ساتھ دوسری زمین کا معاملہ کرنے کا پابند نہیں ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 4):

"(وتنعقد بأعرتك هذه الدار شهرا بكذا) ؛ لأن العارية بعوض إجارة بخلاف العكس (أو وهبتك) أو أجرتك (منافعها) شهرا بكذا؛ أفاد أن ركنها الإيجاب والقبول".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/محرم 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب