| 80990 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
ایک شخص محمد حمزہ نے اپنی زمین پلاننگ کے لئے دوسرے شخص محمد طیب کو اجارہ یعنی ٹھیکہ پر دی اور کام کے حوالے سے ہدایات بھی دیں،جبکہ دوسری زمین دکھا کر اس کامعاہدہ اس بات پر موقوف کیا کہ اگر آپ کا کام اور رویہ وغیرہ اچھا رہا تو دوسری زمین کا بھی نیا معاملہ آپ سے کریں گے،لیکن اس شخص محمد طیب نے دی گئیں ہدایات کے برعکس اپنی من مانی سے کام کیا اور مالی معاملات میں دھوکہ و خیانت سے کام لیا،اب سوال یہ ہے کہ کیا اب مالک محمد حمزہ کو اس معاہدے کے ختم کرنے کا اختیار ہے؟
تنقیح :مذکورہ معاہدے کی تفصیل یہ ہے کہ محمد حمزہ نے اپنی زمین محمد طیب کو دی کہ وہ اسے ہموار کرکے اس میں پلاٹنگ کرے اور لوگوں پر فروخت کرے جو آمدن ہوگی اس میں سے ساٹھ فیصد زمین کے مالک محمد حمزہ کی ہوگی اور چالیس فیصد محمدطیب کی ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت اجارے کی ہے اور اجارے کی صحت کے لئے اجرت کا متعین اور معلوم ہونا ضروری ہے،اجرت کی جہالت کی وجہ سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے اور اجیر یعنی ملازم کو کام کی صورت میں اجرت مثل ملتی ہے،چونکہ مذکورہ صورت میں بھی اجرت متعین رقم کی صورت میں نہیں مقرر کی گئی،بلکہ فیصدی لحاظ سے طے کی گئی ہے،اس لئے یہ معاملہ اجارہ فاسدہ کے حکم میں ہے،لہذا محمد طیب نے اگر اس زمین کوئی کام کیا ہو تو اسے اس کی اجرت مثل(یعنی عرف میں عام طور پر اس جیسے کام جو اجرت دی جاتی ہو) ملے گی۔
البتہ شرعی لحاظ سے اس معاملے کی متبادل دو صورتیں ممکن ہیں:
1۔اجارے کی صحت کے لئے کم ازکم کوئی رقم اجرت کے طور پر متعین کرلی جائے اور بقیہ اجرت نفع میں سے باہمی رضامندی سے کچھ فیصد طے کرلیا جائے۔
2۔ابتداءً زمین کو ہموار کرنے اور اس میں پلاٹنگ کے کام کامعاملہ الگ کیا جائے اور اس کام کی اجرت متعین رقم کی صورت میں طے کرلی جائے،پھر پلاٹنگ ہوجانے کے بعد محمدطیب کو اسے بیچنے کا وکیل بنادیا جائے اور فی پلاٹ اس کا کمیشن فیصدی لحاظ سے طے کرلیا جائے۔
حوالہ جات
"الدر المختار "(6/ 5):
"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله :كون الأجرة والمنفعة معلومتين) أما الأول فكقوله:بكذا دراهم أو دنانير وينصرف إلى غالب نقد البلد، فلو الغلبة مختلفة فسدت الإجارة ما لم يبين نقدا منها فلو كانت كيليا أو وزنيا أو عدديا متقاربا فالشرط بيان القدر والصفة وكذا مكان الإيفاء لو له حمل ومؤنة عنده، وإلا فلا يحتاج إليه كبيان الأجل، ولو كانت ثيابا أو عروضا فالشرط بيان الأجل والقدر والصفة لو غير مشار إليها، ولو كانت حيوانا فلا يجوز إلا أن يكون معينا بحر ملخصا.
"الدر المختار " (6/ 45):
"باب الإجارة الفاسدة (الفاسد) من العقود (ما كان مشروعا بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعا أصلا) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوما ابن كمال".
"الدر المختار " (6/ 46):
"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد أشباه".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
22/محرم 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


