| 80978 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میری پہلی شادی گھر والوں کی مرضی سے رشتہ داروں میں ہوئی جس سے میری ایک اولاد ہے۔ میں نے دوسرا نکاح 2020میں ایک بیوہ سے کیا تھا۔ دونوں گھرانوں کو شادی کا معلوم نہ تھا، پھر ایک دن میری دوسری اہلیہ نے موبائل میں تصاویر دیکھ لیں، جن سے اسے میری شادی کا علم ہوا۔ اگلے دن وہ میرے گھر آگئی اور میری پہلی بیوی سمیت گھر والوں کو سب بتا دیا۔
اس کے بعد گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ ایک کو چن لو، اگر ہمیں رکھنا ہے تو اس سے تعلق ختم کرنا ہوگا جس پر میں نے وقتی معاملات اور غصے کو ختم کرنے کے لیے کہا کہ ٹھیک ہے جو میری فیملی کا فیصلہ ہو۔ اس دوسران وکیل کو بلایا گیا اور میری بھی وکیل سے بات ہوئی کہ میں ایک طلاق دوں گا، جس پر وکیل نے کہا جیسا آپ کہیں گے ویسا ہوگا۔
اس دوران چار دن گزر گئے اور میں اپنی بہن کے گھر رہ رہا تھا، وکیل اچانک وہاں بہنوئی کے گھر آیا اور تین طلاق کے کاغذات تیار کر کے لایا تھا جس پر میں حیران ہوا اور میں نے کہا کہ ہماری ایسی تو بات نہیں ہوئی تھی۔ وکیل نے جواب دیا کہ آپ کی فیملی نے ایسا کرنے کو کہا تھا(یہ بات مجھ سے چھپائی گئی)۔ میں کہا میں طلاق نہیں دوں گا اور میں نے اپنی پہلی زوجہ کو فون کر کے کہا کہ میں طلاق نہیں دوں گا، جس پر اس نے کہا کہ اس کو رکھتے ہیں تو مجھے طلاق دیں، میں نے کہا نہیں میں دونوں کو رکھوں گا، اس دوران لڑائی ہوئی اور وہ بے ہوش ہوگئی اور والدہ کی بھی طبیعت خراب ہوگئی جس پر میرے والد کا فون آیا وہ رو رہے تھے اور گالیاں بھی دے رہے تھے۔
میں گھر گیا دیکھا تو زوجہ بے ہوش تھیں اور گھر میں لڑائی جھگڑا ہورہا تھا، والد، والدہ ، بہن بھائی سب رو رہے تھے اور مجھے دھمکا رہے تھے کہ اگر تم نے طلاق نہ دی تو ہم سے ختم ہوجاؤ گے، تمھاری وجہ سے ہم تباہ ہورہے ہیں۔ والد، بھائی اور چچا نے مجھے پریشرائز کیا ڈاڑھی پر ہاتھ لگایا اور میرے پاؤں پڑے جس پر میں نے کہا جیسا آپ لوگ کہتے ہیں ویسا کرتا ہوں۔ میں نے بغیر پڑھےتین طلاق والے طلاق نامہ پر دستخط کر دیے اور دوسری زوجہ نے جب مجھے کال کی تو میں نے انہیں میسج کیا کہ آپ مجھے کال نہ کریں آپ کو طلاق واقع ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ : والد صاحب شدید غصے میں تھے اور انہوں نے کہاکہ اگر طلاق نہ دی تو میں تمہیں ابھی گولی مار دوں گا (اب یہ تو واللہ اعلم کہ وہ مار بھی سکتے تھے، کیونکہ غصے میں تو انسان کچھ بھی کرسکتا ہے گو کہ اولاد کو نہیں مار سکتا)۔ میں نے آپ کو صورتحال بتائی کہ گھر کے حالات بہت زیادہ بگڑگئے تھے، مجھے frustrate کردیا تھا، سارے رشتہ دار بیٹھے تھے وہ پاؤں کو جھک جھک کر ہاتھ لگا رہے تھے، کچھ سمجھا رہے تھے اور کچھ غصہ کر رہے تھے۔ اس دوران میں نے کہہ دیا کہ جیسا آپ لوگ کہتے ہیں ویسا کر لیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سے پہلے یہ بات بطور تمہید سمجھ لینی چاہیے کہ دار الافتاء سے جو جواب تحریری یا زبانی دیا جاتا ہے وہ سوال کے مطابق ہوتا ہے۔ سوال کے درست یا غلط ہونے کی صورت میں جواب کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔ نیز اگر سوال مطلق ہو اور کوئی ایک صورت واضح نہ کی گئی ہو جبکہ جواب میں ایک سے زیادہ صورتوں میں الگ الگ جواب کا امکان ہو اور تنقیح سے بھی صورت حال واضح نہ ہو، تو جواب میں اصول بتا دیا جاتا ہے جس کے اپنی صورت حال پر اطلاق کی ذمہ داری بھی سائل کی ہوتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ طلاق کا معاملہ شرعاً انتہائی نازک اور حلال و حرام کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی دارالافتاء سے فتوی لے کر اس کا اطلاق اپنی خواہش کے مطابق کرنے سے کوئی شخص عند اللہ گناہ سے بچ نہیں سکتا۔ لہٰذا ایسے کسی فعل سے اجتناب کرنا لازمی ہے۔
اکراہ کی عام فہم تعریف یہ ہے کہ کسی شخص کو غیر معمولی نتائج کی دھمکی دے کر کسی کام پر اس طرح مجبور کیا جائے کہ دھمکی دینے والا اس دھمکی کو واقع کرنے پر قادر بھی ہو اور جس شخص کو دھمکی دی جائے اسے بات نہ ماننے کی صورت میں اس غیر معمولی صورت حال سے دوچار ہونے کا غالب گمان یا یقین بھی ہو۔ وہ یہ کام نہ کرنا چاہتا ہو لیکن دھمکی دینے والے شخص کو اپنی دھمکی پر قادر سمجھ کر کر لے۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
-1 اکراہ تام: جس میں جبر کرنے والا کسی ایسی چیز کی دھمکی دے جس سے انسان کا جان جانے یا عضو تلف ہونے کا خطرہ ہوجیسے قتل، عضو کاٹنے یا اس طرح مارنے کی دھمکی دینا جس سے کوئی عضو ضائع ہو جائے۔
-2اکراہ ناقص: جس سے ڈر کر انسان طبعی طور پر کام کرنے پر مجبور ہو جائے، دھمکی مذکورہ بالا صورت سے کم درجے کی ہو لیکن اس قدر غیر معمولی ہو کہ انسان اپنی رضامندی کے بغیر کوئی کام کرنے پر خود کو مجبور سمجھے اور کام نہ کرنے پر نتائج کو اپنی برداشت سے باہر سمجھے یعنی ایسے نتائج ہوں جنہیں عموماً برداشت کے باہر سمجھا جاتا ہو۔ اس قسم کے اکراہ کے تحقق کے لیے جان سے مارنے یا عضو تلف کرنے کی دھمکی دینا ضروری نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ ایسے معمولی نتیجے کی دھمکی نہ ہو جسے عموماً برداشت کے قابل سمجھا جاتا ہو۔
اکراہ کی ان دونوں قسموں میں تحریری طور پر طلاق لکھ دینے یا لکھی ہوئی طلاق پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ بشرطیکہ زبان سے طلاق کے الفاظ کی ادائیگی نہ ہو۔
اس تفصیل کی روشنی میں شرعاً اکراہ کے ثابت ہونے کے لیے درج ذیل چار شرائط ہیں:
1. مجبور کرنے والا اس کام کی قدرت رکھتا ہو جس پر وہ مجبور کر رہا ہو۔ یہ قدرت ذاتی طور پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی کارندے یا تعلق دار کی مدد سے بھی۔
2. جسے مجبور کیا جائے اسے کم از کم غالب گمان کے درجے میں یہ خوف ہو کہ کام نہ کرنے پر فوری نتیجہ دھمکی کے مطابق نکل سکتا ہے۔
3. دھمکی کسی ایسی چیز کی ہو جس سے جان جانے ، عضو ضائع ہونے کا خطرہ ہو، یا کم سے کم ایسی غیر معمولی صورت حال سے دوچار کرنے کی ہو جس سے عموماً مجبور کیے جانے والے اُس جیسے شخص کی رضامندی ختم ہو جاتی ہو۔
4. جس چیز پر مجبور کیا جائے اس سے مجبور ہونے والا شخص اس اکراہ سے پہلے رکا ہوا ہو، اور وہ کام نہ کرنا چاہتا ہو۔
اس سب تفصیل کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر سوال میں ذکر کردہ صورتحال واقعتاً پیش آئی ہے یعنی لڑائی جھگڑے کے باعث پہلی اہلیہ بے ہوش ہوگئیں، والدہ کی طبیعت خراب ہوگئی اور والد، بھائی دیگر رشتہ داروں سمیت سب زور ڈال رہے تھے طلاق دینے پراور طلاق نہ دینے کی صورت میں قطع تعلقی کا کہہ رہے تھے، جس کے بارے میں آپ کو یقین یا غالب گمان تھا کہ وہ ایسا کر جائیں گے اور اس کی وجہ سے ایسی غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا جس کو عام طور سے برداشت نہیں کیا جاتا ، تو صرف طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع (7/ 175)
فصل وأما بيان أنواع الإكراه فنقول إنه نوعان نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد وأنه غير سديد لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد وهذا النوع يسمى إكراها تاما ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.
الفتاوى الهندية (1/ 379)
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.
الدر المختار (6/ 128)
( وشرطه ) أربعة أمور ( قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا ) أو نحوه ( و ) الثاني (خوف المكره ) بالفتح ( إيقاعه ) أي إيقاع ما هدد به ( في الحال ) بغلبة ظنه ليصير ملجأ ( و ) الثالث (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا عما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح. ابن كمال ( و ) الرابع ( كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله ) إما ( لحقه ) كبيع ماله ( أو لحق ) شخص ( آجر ) كلإتلاف مال الغير ( أو لحق الشرع ) كشرب الخمر والزنا ( فلو أكره بقتل أو ضرب شديد ) متلف لا بسوط أو سوطين.
البحر الرائق (3/ 264)
وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية. وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع.
البحر الرائق (8/ 80)
قيد بضرب شديد وحبس مديد لأنه لو قال أضربك سوطا أو سوطين أو أحبسك يوما ويومين فإنه لا يكون إكراها قال في الميحط إلا إذا قال له لأضربنك على رأسك أو عينك أو مذاكرك فإنه يكون إكراها لأن مثل هذا إذا حصل في هذه الأعضاء قد يفضي إلى التلف وفي المحيط قال مشايخنا إلا إذا كان الرجل صاحب منصب يعلم أنه يتضرر بضرب سوط أو حبس يوم فإنه يكون إكراها وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان.
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
۲۲/محرم الحرام/۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


