03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قل خوانی کی رقم ترکہ سے وصول کرنے کا حکم
81038میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک فریق نے قل خوانی کرائی ہے، اس پر آنے والے اخراجات فریقین سے وصول کرنے کا حقدار ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قل خوانی یا قرآن خوانی میت کے حقوقِ واجبہ میں سے نہیں ہے، بلکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے  سنت سے ثابت  نہ ہونے کی وجہ سے اس کو بدعت قرار دیا ہے۔ اس لیے اگر اس  فریق نے دیگرورثاء کی رضامندی کے بغیر صرف اپنی حسبِ صواب دید قل خوانی کروائی ہے تو وہی اس کے اخراجات کا ذمہ دار ہوگا، اس کو  دیگر ورثاء سے ان اخراجات کی رقم وصول کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/محرم الحرام 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب