| 81110 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں:
میں ایک اسلامی اسکول میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں، وہاں اتوار کو تعطیل ہوتی ہے۔ اسکول کا یہ قانون ہے کہ جو استاذ تعطیل ( اتوار ) والے دن سے قبل ہفتہ والے دن یا تعطیل والے دن کے بعد پیر والے دن چھٹی کرے تو انتظامیہ دو دن کی تنخواہ کاٹتی ہے یعنی اتوار والے دن کی بھی کاٹتی ہے حالاں کہ اتوار کو تو چھٹی ہوتی ہے۔ اس طرح دیگر تعطیلات سے قبل یا بعد چھٹی کریں تو چھٹی والے دنوں کے ساتھ تعطیلات کے دنوں کی بھی تنخواہ کاٹتی ہے، کیا یہ ازروئے شریعت درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاً استاد کی حیثیت اجیر خاص کی ہوتی ہے جو وقتِ مقررہ پر تسلیمِ نفس( کام کے لیے خود کو حوالہ کرنے سے) سے اجرت کا مستحق بنتا ہے۔ اجیر خاص سے صرف اس قدر کٹوتی جائز ہے جس قدر وہ تسلیم نفس نہ کرسکے۔ لہٰذا ادارے کا چھٹی سے ایک دن پہلے یا بعد میں غیر حاضر ہونے کی وجہ سے عرفی واستحقاقی چھٹیوں کے معاوضے سے بھی محروم کرنا جائز نہیں ہے ۔ ادارے کا یہ ضابطہ خلاف شریعت ہے۔ ادارے پر لازم ہے کہ چھٹیوں کے جو معاوضے انہوں نے مدرسین کے ضبط کیے ہیں وہ ان کو ادا کریں۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 81)
(المادة 422) : الأجير على قسمين: القسم الأول هو الأجير الخاص الذي استؤجر على أن يعمل للمستأجر فقط كالخادم الموظف.
(المادة 425) : الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة.
عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
03/صفر المظفر / 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


