03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تاخیر سے پہنچنے پر معاوضہ کاٹنے کا حکم
81111اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

اسکول انتظامیہ نے تمام اساتذہ کو پابند کیا ہے کہ وہ صبح 7:45 سے قبل اسکول پہنچ جائیں۔ جو استاد مہینہ میں کوئی سے بھی تین دن صبح 7:45 کے بعد پہنچے ( خواہ وہ چند منٹ لیٹ کیوں نہ پہنچے) انتظامیہ اس استاذ کی ایک دن کی تنخواہ کاٹتی ہے، کیا یہ ازروئے شریعت درست ہے؟

میں نے سنا ہے کہ مالی جرمانہ احناف کے یہاں راجح قول کے مطابق درست نہیں، مسلک مالکی میں جائز ہے اور وہ کٹوتی کی جانے والی رقوم صدقہ کرتے ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے ملازمین کی حیثیت شرعی طور پر اجیر خاص کی ہوتی ہے؛  کیوں کہ وہ وقت کے پابند ہوتے ہیں، اور  اجیر خاص  ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر رہنے سے اجرت (تنخواہ)  کا مستحق ہوتا ہے، اگر وہ  ملازمت کے اوقات میں  حاضر نہیں  رہا یا تاخیر سے آیا  تو اس   غیر حاضری اور تاخیر کے بقدر تنخواہ  کا وہ مستحق نہیں ہوتا، مذکورہ تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب عرض ہے:

اسکول کا کسی ملازم کی تین دن تاخیر کرنے پر ایک دن کی تنخواہ کی کٹوتی کرنا:

اس کا  حکم یہ ہے کہ یہ ضابطہ شرعاً درست نہیں ہے، تین دن تاخیر سے آنے پر ایک پورے دن کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں ہے؛ ملازم نے جتنا وقت دیا ہے اتنے وقت کی تنخواہ کا وہ مستحق ہے ، جس دن کوئی ملازم تاخیر سے آئے تو  اس کی تنخواہ  میں سے صرف اس تاخیر کے بقدر کٹوتی کی جاسکتی ہے۔

جہاں تک مالی جرمانہ کی بات ہے کہ احناف کے راجح قول کے مطابق وہ لینا جائز نہیں، یہ بات درست ہے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 81)

(المادة 425) : الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 44)

التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال،

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 61)

وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وسيذكر الشارح في الكفالة عن الطرسوسي أن مصادرة السلطان لأرباب الأموال لا تجوز إلا لعمال بيت المال: أي إذا كان يردها لبيت المال

عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

03/صفر المظفر  / 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب