03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قضا نمازیں ﴿جن کی تعداد معلوم نہ ہو﴾ لوٹانے کا طریقہ
81269نماز کا بیانقضاء نمازوں کا بیان

سوال

قضا نمازوں کو لوٹانے کی کیا ترتیب ہے؟ اگر بندے کو اپنی نمازوں کے بارے  میں کچھ بھی معلوم نہ ہو کہ کتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں اور نہ وقت کے بارے میں معلوم ہو،غرض یہ کہ صرف اتنا معلوم ہو کہ مجھ سے بہت ساری نمازیں قضا ہوئی ہیں۔مندرجہ بالا صورت میں نیت کیسے کریں گے،حالانکہ نہ وقت معلوم ہے اور نہ نمازیں معلوم ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سب سے پہلے آپ کو چاہیے کہ آپ ٹھیک ٹھیک حساب کریں کہ آپ کس عمر میں ،کس مہینے کی کس تاریخ کو بالغ ہوئے،اگر یقینی طور پر حساب ہوجائے تو ٹھیک ورنہ غالب گمان سے محتاط اندازہ لگا کر ایک وقت مقرر کریں کہ میں فلاں وقت میں بالغ ہوا تھا،اس کے بعد سے  اب تک جتنی نمازیں قضا ہوگئی ہیں ان کی بھی غالب گمان سے ایک تعداد متعین کرکے لکھ لیں کہ مثلا فجر کی نماز مجھ سے 500 مرتبہ،ظہر کی 350،عصر کی 300 اسی طرح مغرب اور عشاء کی نمازیں اتنی دفعہ قضا ہوئی ہیں، پھر ان کی ادائیگی اس طرح شروع کریں کہ قضا نماز پڑھتے ہوئے صرف فرض اور وتر کی قضا کریں ،سنتوں اور  نوافل کی قضا نہیں ہے اور قضا نماز کی نیت اس طرح کریں کہ مثلا میں نے جتنی فجر کی نمازیں قضا کی ہیں ان میں سے پہلی فجر کی نماز قضاکررہا ہوں،ظہر کی نماز کی قضا کرتے ہوئے یہ نیت کریں کہ جتنی ظہر کی نمازیں قضا کی ہیں ان میں سے پہلی ظہر کی نماز قضا کررہا ہوں،اسی طرح باقی نمازوں میں بھی یہی نیت کریں، پھر اگلی مرتبہ فجر کی قضا  ادا کرتے ہوئے یہ نیت کریں کہ جتنی فجر کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی فجر کی نماز ادا کررہا ہوں (کیونکہ اب یہی نماز آپ کی زندگی کی پہلی فوت شدہ نماز متصور ہوگی) ظہر کی قضا کرتے ہوئے یہ نیت کریں کہ پہلی ظہر کی فوت شدہ نماز کی قضا کررہا ہوں،باقی نمازوں میں بھی اسی طرح نیت کرتے جائیں،جب آخری فجر کی نماز ادا کریں  تو یہ نیت کریں کہ قضا نمازوں کی آخری فجر کی نماز ادا کررہا ہوں اسی طرح باقی نمازوں میں بھی یہی نیت  کریں۔

جتنی قضا نمازیں پڑھتے جائیں اس کا حساب اپنے پاس درج کرتے جائیں اور ساتھ میں یہ وصیت بھی لکھیں کہ میرے ذمے اتنی قضا نمازیں ہیں ان میں سے میں اپنی زندگی میں جن کی قضا نہ کرسکا تو میری طرف سے ان کا فدیہ ادا کردیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ نمازوں میں کوتاہی پر اللہ تعالی کے حضور سچے دل سے توبہ واستغفاربھی کریں اور آئندہ کوتاہی نہ کرنے کا مضبوط  ارادہ بھی کریں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية :ج 4 ، ص 62))

"( الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت ) كل صلاة فاتت عن الوقت بعد وجوبها فيه يلزمه قضاؤها ،سواء ترك عمدا، أو سهوا ،أو بسبب نوم ،وسواء كانت الفوائت كثيرة، أو قليلة."

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح :ج: 3 ،ص :89))

"من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه، فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء."

البحر الرائق شرح كنز الدقائق :ج :4 ، ص :347))

"لأن الأصل في السنة أن لا تقضى؛ لاختصاص القضاء بالواجب، والحديث ورد في قضائها تبعا للفرض في غداة ليلة التعريس ،فبقي ما وراءه على الأصل."

 الدر المختار مع رد المحتار :ج :2ص:643، الناشر:دار المعرفة،بیروت،لبنان ))

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه، أو آخره.

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی فی شرحہ 🙁 قوله كثرت الفوائت إلخ ) مثاله : لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة ، فإن أراد تسهيل الأمر ، يقول: أول فجر مثلا ، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا، أو يقول: آخر فجر ، فإن ما قبله يصير آخرا ، ولا يضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت 

 الدر المختار مع رد المحتار :ج :2ص:643، الناشر:دار المعرفة،بیروت،لبنان ))

"(ولو مات وعليه صلوات فائتة، وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر).

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی فی شرحہ : ( قوله وعليه صلوات فائتة إلخ ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء ، فيلزمه الإيصاء بها،وإلا فلا يلزمه."

 ابرار احمد صدیقی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 ۲/ صفر/١۴۴۵

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابراراحمد بن بہاراحمد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب