03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثاء کے درمیان موروثہ جائیداد کی تقسیم
81100میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحوم ’’ ف ا ‘‘ کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے، مرحوم نے بوقتِ انتقال گھریلو سازوسامان، الماریاں، بسترے، کچھ چارپائیاں، اناج اور تین چار بڑے پالتو جانور، رہائشی مکان اور زرعی زمین چھوڑی۔زرعی زمین کی مقدار میں ورثاء کا اختلاف ہے، اکثر کی رائے یہ ہے کہ ایک سو بیس کنال کے قریب قریب تھی، بعض نے اس سے کم وبیش بتائی ہے۔

بعض ورثاء کا کہنا ہے کہ ہمارا خاندان مشترکہ ہی رہتا تھا، ہم دو بھائی کراچی میں کام کرتے تھے، ہم وقتا فوقتاً والد صاحب کو پیسے بھیجتے تھے، والد صاحب ان پیسوں سے زمین خریدتے اور کبھی گھریلو اخرجات میں وہ رقم خرچ کر دیتے، ہم یہ رقم والد صاحب اور بہن بھائیوں کے تعاون کے لیے بھیجتے تھے، مقدار تو یاد نہیں، البتہ ہم دونوں نے اچھی خاصی رقم کراچی سے والد صاحب کو ملازمت کے دوران بھیجی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ورثاء کے درمیان یہ ترکہ کیسے تقسیم ہو گا؟ یعنی ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟نیزجن ورثاء نے مشترکہ رہتے ہوئے اپنی آمدن کا اچھا خاصا حصہ مشترکہ پراپرٹی بنانے اور دیگر گھریلو امور میں خرچ کیا، کیا ان کو زیادہ حصہ ملے گا یا نہیں؟ جبکہ یہ رقم والد صاحب اور اپنے بہن بھائیوں کے تعاون کے لیے بھیجی جاتی تھی۔

وضاحت: مرحوم ’’ ف ا ‘‘ کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ کا بھی انتقال ہو گیا، ان کے ورثاء میں بھی یہی پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی، اس کے علاوہ دونوں کے دادا، دادی، نانی اور والدین وغیرہ کا انتقال ان دونوں کی زندگی میں ہو چکا تھا۔ اب مرحوم فیض احمد اور ان کی اہلیہ دونوں کے ترکہ تقسیم مطلوب ہے، کیونکہ ابھی تک ترکہ تقسیم نہیں ہوا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم ’’ ف ا ‘‘ اور ان کی اہلیہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور ان  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ  واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی(3/1) تک جائز وصیت (اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو) پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اس کوگیارہ(11) حصوں میں  برابرتقسیم کرکے ان کی بیٹی کوایک(1) حصہ اوران کے ہربیٹے کو دو (2) حصے دیے جائیں گے، فيصدی لحاظ سے ہر وارث كے حصہ کی تفصیل ذیل کے  نقشہ میں  ملاحظہ فرمائیں:جہاں تک ان ورثاء کا تعلق ہے جنہوں نے خاندان کے مشترکہ رہتے ہوئے کراچی ملازمت کے دوران اپنے والد صاحب کو کافی مقدار میں رقم بھیجی ہے تو چونکہ یہ حضرات والد صاحب اور بہن بھائیوں کے تعاون کے لیے یہ رقم بھیجا کرتے تھے اس لیے اصولی اعتبار سے انہوں نے جو تعاون کیا وہ شرعی اعتبار سے والدین اور بہن بھائیوں کے لیے تبرع اور احسان تھا، جس کا اجر ان کو ان شاء اللہ تعالیٰ آخرت میں ملے گا۔ لہذا والدین کے ترکہ میں سے وہ اصولِ وراثت کے مطابق اتنے حصے کے ہی حق دار ہیں جس کی تفصیل اوپر ذکر کی گئی۔ البتہ دیگر ورثاء کو چاہیے کہ جیسے ان دو بھائیوں نے والدین کی زندگی میں سب کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے ہوئے ان پر تبرعاً خرچ کیا اسی طرح اب دیگر بہن بھائی بھی ان دو بھائیوں کو ان کے احسان کا بدلہ دیتے ہوئے باہمی رضامندی سے کچھ حصہ زیادہ دے دیں تو یہ شریعت کی تعلیمات کے عین مطابق ہو گا اور اس کے نتیجے میں تمام بہن بھائیوں کے درمیان صلہ رحمی اور اخوت کا رشتہ برقرار  رہے گا اور پھر آخرت میں بھی ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا بہترین اجر اور بدلہ میں بھی ملے گا۔

نمبر شمار

وارث

    عددی حصہ

  فيصدی حصہ

1

بیٹی (عصبہ)

1

9.090%

2

بیٹا(عصبہ)

2

18.181%

3

بیٹا (عصبہ)

2

18.181%

4

بیٹا (عصبہ)

2

18.181%

5

بیٹا (عصبہ)

2

18.181%

6

بیٹا (عصبہ)

2

18.181%

 

حوالہ جات

  القرآن الکریم : [النساء:11]:

يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.

القرآن الکریم : [الرحمن: 60]:

{هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ }

      السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا،  ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

4/صفرالمظفر 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب