03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگر سابقہ بیوی سے تمہارا جنسی تعلق ہوا ہو تو اس کو تمہاری طرف سے طلاق کے جواب میں شوہر کے ہاں کہنے کا حکم
81148طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میں ایک مسئلہ کے متعلق جاننا چاہتی ہوں۔ ایک شخص کی دو بیویاں ہیں، وہ ایک کے پاس رہتا ہے، دوسری کے پاس بہت کم آتا ہے. جتنا ہو سکے اتنا خیال کر لیتا ہے، مگر ملنے یا رہنے کم آتا ہے ،کیونکہ اسکی یہ خفیہ شادی ہے. جس کا اس نے ابھی گھر میں ذکر نہیں کیا. جس بیوی کو ملنے کم آتا ہے، اس کو بعض اوقات بہت دکھ ہوتا ہے کہ میں بھی ویسی ہی بیوی ہوں ،جیسے پاس رہنے والی بیوی ہے، لیکن اسکا شوہر کہتا ہے کہ میرا پاس رہنے والی بیوی سے جسمانی تعلق صرف جب اسکو حاملہ کرنا ہو تب ہوتا ہے، ورنہ نہیں ہوتا. اس بات پر دور رہنے والی بیوی اکثر پوچھ لیتی ہے کہ آیا تمہاری جسمانی ضرورت اور خواہش پاس رہنے والی بیوی سے پوری ہو رہی ہوں گی اس لیے تمہارا مجھ سے جلد ملنے میرے پاس آنے کا دل نہیں چاہتا تو شوہر کہتا ہے، ایسا نہیں ہے، میرا اس سے کوئی جسمانی تعلق نہیں ہوا. مثلاً بیوی نے پوچھا : تم آج اس لیے نہائےہو کہ پاس رہنےوالی بیوی سےتم نےمباشرت کی یااس سے جسمانی تعلق ہوا؟ شوہر:نہیں بیوی : اگرتم جھوٹ بول رہےہواورپاس رہنےوالی بیوی سے تمہارا کسی قسم کا جسمانی تعلق ہوا ہو یا تم اس سے مباشرت کرنے کی وجہ سے نہائے ہو تو کیاتمہاری طرف سے تمہارے پاس رہنے والی بیوی کو طلاق ہو جائے؟ شوہر:ہاں۔

سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟یاپاس رہنے والی بیوی کے سامنے اسکو طلاق دینے پر ہی ہو سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ ماضی میں کسی واقعہ کے ساتھ طلاق کی تعلیق ہے جو کہ شرعا درست اورمعتبر ہے،چنانچہ ایسے میں اگر وہ شرط ماضی میں پائی گئی ہوتو ایسی تعلیق تنجیز کےحکم میں ہوتی ہے،لہذایہ الفاظ کہتے ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذاصورت مسؤلہ میں  بیوی کےاس طرح کے کلام کہنے کے جواب میں شوہر کا ہاں کہنے سے تعلیق ہوجائیگی اورماضی کی شرط واقع ہونے کی صورت میں تعلیق کے فوری بعد طلاق واقع ہوجائے گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 249)

ولو قيل له: طلقت امرأتك فقال: نعم أو بلى بالهجاء طلقت بحر (واحدة رجعية،

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 249)

(قوله طلقت امرأتك) وكذا تطلق لو قيل له ألست طلقت امرأتك على ما بحثه في الفتح من عدم الفرق في العرف بين الجواب بنعم أو بلى كما سيأتي في الفروع آخر هذا الباب. (قوله طلقت) أي بلا نية على ما قررناه آنفا (قوله واحدة) بالرفع فاعل قوله ويقع وهو صفة لموصوف محذوف أي طلقة واحدة، أفاده القهستاني (قوله رجعية) أي عند عدم ما يجعل بائنا.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 105)

(وإن قالت: قد شئت إن كان كذا لأمر قد مضى طلقت) لأن التعليق بشرط كائن تنجيز.

 (قوله وإن قالت: قد شئت إن كان كذا لأمر قد مضى) كشئت إن كان فلان قد جاء وقد جاء، أو لأمر كائن كشئت إن كان أبي في الدار وهو فيها طلقت لأن التعليق بأمر كائن تنجيز.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸صفر۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب