| 81224 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک کاروباری آدمی نے ایک بیل خریدا پھر اس بیل کو قربانی کے حصوں کے طور پر بیچنے لگا ابھی تین حصے بیچے تھے بیل بیمار ہو گیا بالآخر مجبورا بیل ذبح کرنا پڑا اب یہ تین حصے بائع کے ہلاک ہوئے یا مشتری کے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر مذکورہ تین حصے فروخت کرنے کے بعد تخلیہ کرادیا گیا تھا،یعنی بحیثیت شریک انہیں جانور کو گھمانے پھرانے کی اجازت دے دی گئی تھی،یا جانور انہیں دکھاکر قبضے کی اجازت دے دی گئی تھی تو پھر مذکورہ صورت میں تین حصے خریداروں کے کھاتے میں شمار ہوں گے۔
لیکن اگر تخلیہ نہیں ہوا تھا،جانور کی غیر موجودگی میں فقط خریدوفروخت کا معاملہ ہوا تھا تو پھر قبضے سے پہلے مبیع کی ہلاکت کی وجہ سے بیع فسخ ہوجائے گی اور بیچے گئے تین حصے بھی بیچنے والے کے کھاتے میں شمار ہوں گے۔
وضاحت:مذکورہ مسئلہ بیع المشاع(غیرمعین حصے کی بیع) کی قبیل سے ہے اور اس میں مشتری کی طرف ضمان کی منتقلی کے لئے قبضہ ضروری ہوگا یا حسی طور پر قبضہ اور تصرف ممکن نہ ہونے کی وجہ سے صرف ایجاب و قبول ہوتے ہی مبیع(خریدی گئی چیز) کا ضمان مشتری کی طرف منتقل ہوجائے گا؟نیز اگر قبضہ ضروری ہو تو اس کی کیا کیفیت ہوگی؟
اس حوالے سے کافی تتبع وتلاش کے باوجود فقہ حنفی کی متداول کتابوں میں کوئی صریح جزئیہ اس بات پرنہیں مل سکا کہ مشاع پر قبضے کی کیا صورت ہوگی؟
اور نہ اس بات کی تصریح مل سکی کہ مبیع کے مشاع ہونے کی صورت میں ضمان کی منتقلی کے لئے مبیع پر قبضہ ضروری نہیں،بلکہ محض ایجاب وقبول کے بعد ہی ضمان مشتری کی طرف منتقل ہوجائے گا،بلکہ بیع قبل القبض کی مطلقاً ممانعت کا تقاضا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مبیع کے مشاع ہونے کی صورت میں بھی اس پر قبضہ ضروری ہو،غالباً یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام کی عبارات میں بیع المشاع کے جواز کی تصریح تو موجود ہے،لیکن کہیں بھی ایسی کوئی عبارت نہیں ملی جس میں مبیع کے مشاع ہونے کی صورت میں ضمان کی منتقلی کے لئے قبضہ کا استثناء کیا گیا ہو،اگر ایسا ہوتا(یعنی مبیع کے مشاع ہونے کی صورت میں ضمان کی منتقلی کے لئے قبضے کی ضرورت نہ ہوتی) تو اس کی تصریح ضرور ملتی،بلکہ فقہ البیوع میں اس کے برعکس بیع المشاع کی صورت میں قبضہ سمیت بیع کی دیگر تمام شرائط کے لحاظ کی تصریح کی گئی ہے،چنانچہ کمپنی کے حصص کی بیع کے تحت حضرت مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم لکھتے ہیں:
"فقہ البیوع " (1/ 383):
"ومن قبیل بیع المشاع اسھم الشرکات المساھمة .....
ثم ان کان اقتناء اسھم الشرکات جائزا انطبق علی بیعہ وشراءہ جمیع الشروط الشرعیة لجواز البیع وصحتہ ولذالک لایجوز لاحد ان یبیع اسھما لایملکھا ...
وکذالک یجب ان تکون الاسھم مقبوضة لدی البائع قبل ان یبیعھا الی آخر".
البتہ چونکہ شیوع کی وجہ سے مبیع پر حسی طور پر قبضہ ممکن نہیں ہوتا،اس لئے ضمان کے مشتری کے طرف منتقل ہونے کے لئے تخلیہ کافی ہوگا۔
علاوہ ازیں فقہ شافعی اور حنبلی میں اس کی تصریح موجود ہے کہ مشاع پر قبضہ کل پر قبضے کے ذریعے ہوگا۔
حوالہ جات
"البحر الرائق " (5/ 283):
"(قوله: البيع يلزم بإيجاب وقبول) أي حكم البيع يلزم بهما؛ لأنه جعلهما غيره وأنه يلزم بهما مع أن البيع ليس إلا هما؛ لأنهما ركناه على ما حققناه وما قيل إنه معنى شرعي كما قدمناه فليس هو إلا الحكم فالمتحقق من الشرع ليس إلا ثبوت الحكم المعلوم من تبادل الملكين عند وجود الفعلين أعني الشطرين بوضعهما سببا له شرعا وليس هنا شيء ثالث".
"الدر المختار " (4/ 561):
"ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" مطلب في شروط التخلية وحاصله: أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع، ففي نحو حنطة في بيت مثلا فدفع المفتاح إذا أمكنه الفتح بلا كلفة قبض، وفي نحو دار فالقدرة على إغلاقها قبض أي بأن يكون في البلد فيما يظهر، وفي نحو بقر في مرعى فكونه بحيث يرى ويشار إليه قبض وفي نحو ثوب، فكونه بحيث لو مد يده تصل إليه قبض، وفي نحو فرس أو طير في بيت إمكان أخذه منه بلا معين قبض.
"البحر الرائق " (5/ 333):
" وكذا لو اشترى بقرا في السرح، فقال البائع اذهب فاقبض إن كان يرى بحيث يمكنه الإشارة إليه يكون قبضا".
"الفتاوى الهندية" (3/ 44):
"وإذا هلك المبيع قبل القبض يبطل البيع سواء كان الخيار للبائع أو للمشتري أو لهما جميعا".
"تحفة الفقهاء" (2/ 39):
"إذا ثبت تفسير المبيع والثمن فنذكر أحكامهما فنقول: منها: إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ البيع".
"أسنى المطالب في شرح روض الطالب "(2/ 482):
"(فرع قبض المشاع) يحصل (بقبض الجميع) منقولا كان، أو غيره".
"الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي "(6/ 4256):
"ويرى الشافعية والحنابلة: أن قبض المشاع في العقار يكون بالتخلية، وإن لم يأذن الشريك، وفي المنقول يكون بالتناول، ويشترط فيه إذن الشريك، ولا يجوز نقله بغير إذن الشريك. فإن أبى ورضي المرتهن بكونه في يد الشريك، جاز وناب عنہ فی القبض".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/صفر1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


