03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تراویح میں قرآن سنانے کی اجرت لینے کا حکم
81211نماز کا بیانتراویح کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر  کوئی حافظ صاحب تراویح پڑھانے کے لیے  پیسوں کی شرط لگائے،مثلا ً  یہ کہے کہ  ایک لاکھ روپے جب تک نہیں دو گے تو میں تراویح میں قرآن نہیں سناؤں گا ، اور ساتھ یہ بھی کہے  کہ یہ  میں قرآن سنانے کے پیسے نہیں لے رہا ہے،بلکہ تراویح  سنانے میں جتنا وقت میرا لگ رہا ہے  ،اُس وقت کے پیسے لے رہا ہوں، اس حساب سے میں اجیر خاص بن رہا ہوں ۔کیا  اس صورت میں حافظ کے لیے پیسے لینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ متأخرین فقہا ء نے قرآن اور دینی تعلیم کے پڑھانے پر اجرت کے جواز کا قول ضروت کی بنا ءپر اختیار کیا ہے،تاکہ دین اور دینی شعائر محفوظ رہ سکیں ،بصورت دیگر مذکورہ حضرات  اگر طلبِ معاش  کے لیے مصروف ہوجاتے ہیں تو دین اور دینی شعائر ضائع ہونے کا اندیشہ ہےتو اس صورت میں فقہا ءکرام نے وقت کےعوض  اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔

            صورت مسئولہ میں تراویح پڑھانے والے کا تراویح کی نماز کو دیگر دینی خدمات (امامت،تعلیمِ قرآن وغیرہ) کی اجرت لینے پر قیاس کرنا درست نہیں ،کیوں کہ  تراویح میں ایک بار  قرآن کریم مکمل کرنا سنت ہے،فرض یا واجب نہیں ہے، جہاں کہیں کوئی حافظ میسر نہ ہو، وہاں مختصر سورتوں کے ساتھ تراویح ادا کی جاسکتی ہے،اس لیے  تراویح کی نماز میں قرآن مجید سنا کر اجرت لینااور لوگوں کے لیے اجرت  دینا ، دونوں ناجائز ہے،لینے اور دینے والے  دونوں گنہگار ہوں گے اور ثواب بھی نہیں  ملے گا۔تاہم اگر کہیں حافظ قرآن کو رمضان المبارک کے لیے نائب امام بنا دیا جائے اور اس کے ذمہ ایک دو نمازیں  سپرد کردی جائیں اور اس خدمت کے عوض تنخواہ کے نام سے اسے کچھ دیا جائے تو اس کے لینے اور دینے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

مصنف ابن أبي شيبة - ترقيم عوامة (2/ 400)

قال : حدثنا سفيان ، عن واقد ، عن زاذان ، قال سمعته يقول : من قرأ القرآن يأكل به جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم.

حاشية ابن عابدين (6/ 56)

فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال فإذا لم يكن للقارىء ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا . إنا لله وإنا إليه راجعون.

حاشية ابن عابدين (6/ 56)

 واختلفوا في الاستئجار على قراءة القرآن مدة معلومة قال بعضهم لا يجوز وقال بعضهم يجوز وهو المختار اه  والصواب أن يقال على تعليم القرآن فإن الخلاف فيه كما علمت لا في القراءة المجردة فإنه لا ضرورة فيها.

عدنان اختر

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 18/صفر الخیر /1445ھ        

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عدنان اختر بن محمد پرویز اختر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب