03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معلق طلاق اورظہارکاحکم
81232طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

   شوہر نے اپنی بیوی سے کہاکہ یہ موبائل لو اوراس میں جوباتیں ریکارڈہیں، ان کو آپ خود سن لو لیکن "اگر یہ باتیں اس کمرے سے باہر نکلیں یاآپ نے یہ باتیں کسی بھی شخص کے سامنے کیں یا بتائیں تو آپ مجھ پر سگی یعنی اپنے بہن کی طرح ہوگی یابہن جیسی ہوگی"چند دنوں کے بعد بیوی نے کچھ مشکلات کی وجہ سے وہ باتیں رشتہ داروں کے سامنے بیان کیں پھر بیوی نے یہ بات شوہر کے سامنے کہہ دی کہ میں نے وہ ریکارڈنگ والی بات اپنے رشتہ اروں کو بتائی ہے تو شوہر نے جواب میں کہا کہ آپ کوئی بات چھپاکر نہیں رکھ سکتی؟آپ نےکوئی پرواہ نہیں کی ؟اس بات پر چند مہینے گزرنےکے بعد شوہراب اس بات سے منکر ہوگیاہےاورکہتاہے کہ میں نے یہ بات نہیں کی ،جبکہ بیوی اقرارکرتی ہے کہ مجھے یہ بات واضح طورپر یاد ہے اوروہ اس بارے میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کےلیے بھی تیارہے کہ شوہرنے یہ لفظ کہاہے ۔

دوسرا واقعہ،ایک دن شوہرنے کسی غلط کام کرنے پر اپنے چھوٹے بھائی کو ماراپیٹا اورغصہ کیا یعنی بھائی سے جھگڑا کیا اورپھر اپنے بھائی سے دیگربڑے بھائیوں کے سامنے کہاکہ "  اگرمیں نے آپ کے ساتھ دل سے بات کی یعنی اچھے اخلاق سے بات کی تو مجھ پراپنی بیوی طلاق ہوگی"۔

    تیسرا واقعہ گزشتہ واقعہ کے بعد شوہربہت غصے کی حالت میں اسی رات کو اپنے گھر آیا اوربیوی ،بچوں سے کہا کہ"اگرآج کے بعد میرا چھوٹا بھائی اس گھرکے دروازے سے اندرآیا  یا آپ نے گھر کے اندرچھوڑا تو آپ یعنی بیوی مجھ پر اپنی بہن جیسی ہوگی" اس کے بعد اپنی بیوی،بچوں سے کہا کہ آج کے بعد میرے چھوٹےبھائی سے آپ لوگوں نے بات کی یا اس سے ملے یا ملاقات کی تو میں واضح طورپر خبردار کرتاہوں کہ میں نے یہ بات کہی ہےلہذا آپ میرے بھائی سے پردہ کروگی ، آپ سب اسے گھرکے اندرنہیں چھوڑوگے ،پھر اس کےبعدصبح جب بیوی اپنے اس چھوٹے دیورسے ملی تو اس سے سلام کیا، ہاتھ ملایا  اورایک گھنٹے تک بات چیت بھی کی۔

    پھر چارپانچ مہینے کے بعد شوہر حج وعمرہ کرنے کےلیے حرمین شریفین کے سفر کے اردے سے جارہے تھے تو سب بھائیوں سے رخصت لیا تو چھوٹے بھائی سےبھی گلے ملے ،سلام کیا،اوردونوں نے ایک دوسرے سےبات چیت کی،پھر جب شوہرحج عمرےسے گھر واپس آئے توپھر چھوٹے بھائی کو سلام کیا اورگلے بھی ملائے ،بات چیت بھی کی اورجب بڑا  بھائی عمرے پر تھا تو چھوٹا بھائی تین چارمرتبہ بڑے بھائی کے گھر بھی آیاتھا اورجب بڑا بھائی حج عمرے سے واپس آیا  تو بھی چھوٹا  بھائی گھر کے اندر آیا اوراس کے بعد بھی کئی مرتبہ گھر کے اندر آیا ،ان دوطلاقوں کا شوہربھی اقرار کرتاہے اورگھر کے لوگ بھی اس پر گواہ کے طور موجود ہیں ،گھر کے چار پانچ افراد اس پر گواہی دیتے ہیں اورگھر والے مانتے بھی ہیں اورشوہربھی ان دو طلاقوں کا انکارنہیں کرتا۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ جب شوہر حج سے آیا تو بیوی اس سے ضرورت سے زیادہ باتیں نہیں کرتی اورآپس میں وہ  ایک دوسرےسے پرہیز کرتےہیں اوربیوی اپنے شوہرسے کہتی ہےکہ اب تم گھر نہیں آؤ کیونکہ آپ نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں، اب میراآپ سے پردہ ہے اسی طرح اکیس دن گزرگئے آخرکار شوہرنے تنگ اور پریشان ہوکر بیوی سے کہا کہ میں کسی مفتی سے اس مسئلہ کے بارے میں تحقیق کرتاہوں،پھر اس کے بعد شوہرنے کسی مفتی صاحب سے مسئلہ معلوم کرلیا مگران کے سامنے شوہرنے صرف دو طلاقوں کا ذکر کیا اورپہلے والی طلاق سے منکر ہوگیا ،بقول شوہر کےمفتی صاحب نےاس کو کہا کہ اپنے بیوی کو ایک اور طلاق دیدو اورپھرجب تمہاری بیوی عدت گزاردے تو تم اس سے دوبارہ نکاح کرلو، لیکن بیوی طلا ق سے انکارکرتی ہے کہ مجھے اورطلاق مت دو، اسی طرح نکاح کرلو کیونکہ آپ نے پہلے ہی مجھے تین طلاقیں دی ہیں، ایسانہ ہوکہ یہ مسئلہ ہی ختم ہوجائےاور بات حلالہ تک پہنچ جائے، کیونکہ آپ نے مفتی صاحب سے صرف دو طلاقوں کا مسئلہ پوچھا ہے اورتیسری طلاق سے منکر ہوگئے ہو،لیکن شوہر کہتاہے کہ آپ میری بات مان لو میں تمہیں طلا ق دیدونگا اورعدت گزار کرپھر دوبارہ نکاح کرلیں گے اگر یہ طلاقیں اس طرح چارہوگئیں اورحرام میں پڑنے کاگناہ ہوتو ساراگناہ  مجھ پر ہوگا اورتم اس گناہ سے بری ہوگی۔

توپوچھنا یہ ہےکہ

کیا اس طرح کرنے سے بیوی کے ذمہ حرام کا کوئی گناہ آئے گایانہیں،اگرآئے گاتو دونوں پر ہوگایا کسی ایک پر؟

واضح رہے کہ پہلی طلاق کےبعداب تک6/7ماہ کاعرصہ گزراہےاوردوسری کے بعد55دن اورتیسرے کے بعد اب تک36 دن گزرے ہیں ۔

پہلی طلا ق پر میاں بیوی کے پاس کوئی گواہ موجود نہیں ہے، لیکن بیوی قسم کےساتھ اس طلاق کا اقرارکرتی ہے جبکہ شوہراس سےانکاری ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ٍ  مسئولہ صورت میں شوہرکے دوسرے جملے" اگرمیں نے آپ نےکے ساتھ دل سے بات کی یعنی اچھے اخلاق سے بات کی تو مجھ اپنی بیوی طلاق ہوگی"سےایک واقع ہوگئی ہے،کیونکہ شرط پائی گئی ہے.اورتیسرے جملے"اگرآج کے بعدمیرا چھوٹا بھائی اس گھر کے دروازے سے اندرآیا یاآپ نے گھر کے اندر چھوڑا تو آپ یعنی بیوی  مجھ پر اپنی بہن جیسی ہوگی"سے (جوکہ شوہرنے غصہ کی حالت میں کہاہے) راحج قول کےمطابق ظہارہوگیاہے اورپہلے جملے"اگر یہ باتیں اس کمرے سے باہر نکلیں یاآپ نے یہ باتین کسی بھی شخص کے سامنے کیں یا بتائیں تو آپ مجھ پر سگی یعنی اپنے بہن کی طرح ہوگی یابہن جیسی ہوگی"سےگوشوہرمنکر ہے مگرچونکہ بیوی اپنے کانوں سے ظہارکے یہ جملے سن چکی ہے لہذا اس کے حق میں دیانةً یہ راجح قول کے مطابق ظہارہوگا،لہذابحیثیتِ مجموعی مسئولہ صورت میں ایک طلاق اوردو ظہارواقع ہوئے ہیں لہذا عدت میں رجوع اورعدت کےبعدہوتونکاح جدیدکے باجود شوہر بیوی کی طرف رجوع نہیں کرسکتاجب تک کہ ظہارکے دوکفارے ادا نہ کرے یعنی جب تک 120مسلسل روزے نہ رکھےیا 120مسکینوں کو صبح وشام کھانا نہ کھلائے اوراگرخشک راشن دینا ہوتو 120مسکینوں میں سے ہرایک کو سوا دو کلو فی کس کے حساب سے گندم یا اس کی قیمت نہ دے ۔

ظہارکےمذکورہ دو کفاروں میں تداخل نہیں ہوگا، اس لیےکہ دونوں واقعات دو الگ الگ  مجلسوں میں ہوئے ہیں،ایک مجلس میں نہیں ہوئے ۔

  رجوع کےلیے مزید طلاق دینے کا مشورہ کوئی مفتی نہیں دے سکتا،معلوم نہیں اس شخص نے کس سے مسئلہ پوچھاہےاوران کے سامنے  سوال کیا رکھاہے؟ اوراگرصحیح آدمی سے پوچھاہےاورصورت حال بھی صحیح سامنے رکھی ہے تو یہ معلوم نہیں کہ یہ  شخص جواب صحیح سمجھاہے یانہیں ؟لہذا شوہرکےاس مبہم قول کا اعتبار نہیں کیاجاسکتا۔بہرحال جیسے شوہرکسی مفتی کے حوالے سے بتارہاہے وہ  بات  درست نہیں ہے ،اوراس کو مزید طلاق سے پرہیز کرناچاہیے،بس ایک طلاق جو ہوئی ہے اس کے بعد اگرعدت نہ گزری ہوتو اس سے رجوع کرے اوراگرگزرچکی ہوتو نیانکاح کرے اوردوظہاروں کاکفارہ  ادا کرکے پھربیوی  کی طرف رجوع کرےاوراس سے جنسی تعلق قائم کرے۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق (3/ 5)

واذا اضافہ الی شرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لا مرأتہ ان دخلت فانت طالق(ھدایہ اولین ج۲ ص ۳۶۵ باب الایمان فی الطلاق)

حاشية رد المحتار - (ج 3 / ص 516)

قوله (لأنه كناية) أي من كنايات الظهار والطلاق قال في البحر وإذا نوى به الطلاق كان بائنا كلفظ الحرام وإن نوى فهو إيلاء عند أبي يوسف وظهار عند محمد والصحيح أنه ظهار عند الكل لأنه تحريم مؤكد بالتشبيه ا ه ونظر فيه في الفتح بأنه إنما يتجه في أنت علي حرام كأمي والكلام في مجرد أنت كأمي ا ه أي بدون لفظ حرام قلت وقد يجاب بأن الحرمة مرادة وإن لم تذكر صريحا هذا وقال الخير الرملي وكذا لو نوى الحرمة المجردة ينبغي أن يكون ظهارا وينبغي أن لا يصدق قضاء في إرادة البر إذا كان في حال المشاجرة وذكر الطلاق .

حاشية رد المحتار - (ج 3 / ص 517)

قوله (من ظهار) لأنه شبهها في الحرمة بأمه وهو إذا شبهها بظهرها يكون مظاهرا فبكلها أولى نهر قوله (أو طلاق) لأن هذا اللفظ من الكنايات وبها يقع الطلاق بالنية أو دلالة الحال على ما مر وقوله كأمي تأكيد للحرمة ولم أر ما لو قامت دلالة على إرادة الطلاق بأن سألته إياه وقال نويت الظهار نهر قلت ينبغي أن لا يصدق لأن دلالة الحال قرينة ظاهرة تقدم على النية في باب الكنايات فلا يصدق قي نية الأدنى لأن فيه تخفيفا عليه تأمل

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 304):

وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.

قال اللہ تعالی :

وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآءِ ھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ط ذٰلِکُمْ تُوْ عَظُوْنَ بِہٖ ط وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌo فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ج فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ط ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِہٖ ط وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللهِ ط وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌo

وفی الأصل  للإمام محمد بن الحسن الشيباني:

"وإذا ظاهر من امرأته مرتين أو ثلاثاً في مجالس مختلفة فعليه لكل ظهار كفارة ذلك. بلغنا عن علي بن أبي طالب  رضي الله عنه . وإذا ظاهر منها في مجلس واحد ثلاث مرات أو أربع مرات (9) فعليه لكل ظهار كفارة إلا أن يكون نوى الظهار الأول. فإن كان نوى الظهار الأول فعليه كفارة واحدة". (باب الظهار، ج: 5، صفحہ: 9، ط:  دار ابن حزم، بيروت – لبنان)

البحرالرائق میں ہے:

"ولا تداخل في كفارة الظهار حتى لو ظاهر من امرأته مرارا لزمه بكل ظهار كفارة". (ج: 4، صفحہ: 109)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

  20/02/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب