| 81229 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
رضیہ والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ والدین فوت ہوگئے تو رضیہ کا ایک چچا(انور) تھاجو رضیہ کے باپ کا ماں شریک بھائی تھا، اس نے رضیہ کو باپ کے بعد سنبھالا تھا۔ وہ ماں شریک چچا بھی رضیہ سے پہلے فوت ہوگیا اور اس کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں زندہ ہیں۔ اس کے علاوہ رضیہ کی سگی پھوپھی ہے، رضیہ کے والد کی وراثت میں زمین کی وجہ سے پھوپھی اپنا حصہ تیس لاکھ پہلے رضیہ سے لے کر گئی تھی۔ اب اس پھو پھی کی تین بیٹیاں اور دو پوتے زندہ ہیں۔ وہ بیٹیاں رضیہ کی وراثت میں اپنا حصہ مانگ رہیں ہیں۔ رضیہ کا ایک ماموں زاد اور ایک خالہ زاد بھائی بھی زندہ ہیں۔ ان میں سے کون وارث بنے گا اور اس کو کتنی ملکیت ملے گی؟ رقم ایک کروڑ روپے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پھوپھی کی تینوں بیٹیاں، ماموں زاد اور خالہ زاد ورثاء بنیں گے۔ ترکہ کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بارہ حصے پھوپھی کی بیٹیوں کو اور تین تین حصے ماموں زاد اور خالہ زاد کو ملیں گے۔ جدول کے مطابق ترکہ کو تقسیم کیا جائے گا۔
|
ورثاء |
عددی حصے |
فیصدی حصے |
ترکہ |
|
پھوپھی بیٹی 1 |
4 |
22.2222 |
2222222.222 |
|
پھوپھی بیٹی 2 |
4 |
22.2222 |
2222222.222 |
|
پھوپھی بیٹی 3 |
4 |
22.2222 |
2222222.222 |
|
ماموں زاد |
3 |
16.6666 |
1666666.666 |
|
خالہ زاد |
3 |
16.6666 |
1666666.666 |
|
ٹوٹل |
18 |
100٪ |
10000000 |
حوالہ جات
تسهيل الفرائض (ص: 55)
ميراث أولاد الأم
لا يرث أولاد الأم، إلّا إذا لم يوجد للميت فرع وارث ولا ذكر من الأصول وارث. فإن وجد للميت فرع وارث، أو ذكر وارث من الأصول، سقط أولاد الأم.
تسهيل الفرائض (ص: 72)
وذوو الأرحام من الحواشي هم:
1- جميع الإناث سوى الأخوات، كالعمة والخالة وبنات الأخ وبنات الأخت وبنات العم..... أحوال ذوي الأرحام ثلاث:
الأولى: أن يكون الموجود واحداً فله جميع المال بالتعصيب إن أدلى بعاصب، وبالفرض والرد إن أدلى بذي فرض. الثانية: أن يكون الموجود اثنين فأكثر والمُدْلَى به واحد، فلهم جميع المال أيضاً؛ لأن المُدْلَى به إما عاصب يحوز جميع المال بالتعصيب، وإما صاحب فرض يستحق جميع المال فرضاً وردّاً. الحال الثالثة: أن يكون الموجود من ذوي الأرحام اثنين فأكثر، والمدلى بهم اثنان فأكثر؛ فنقسم المال أولاً بين المدلى بهم كان الميت مات عنهم، ومن سقط منهم سقط من يدلى به، ثم نقسم نصيب كل واحد من المدلى بهم على من يدلون به على حسب إرثهم منه، غير أن الذكر والأنثى سواء.
عنایت اللہ عثمانی
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
91/صفر الخیر / 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


