03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف ملکوں کی کرنسی کا مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر تبادلہ کرنا
81275جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص سعودیہ میں لوگوں سے ریالات لے کر پھر ان کے بدلے پاکستان میں ان کو روپے دلاتاہے،

اس کی صورت یہ ہے کہ ایک بندہ اس کے پاس آیا،اس نے کہا کہ یہ پندر سو ریال لے لو اور پاکستان میں مجھے روپے دلوادو تو 1500 ریال کے مثلا ایک لاکھ روپے بنتے ہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ ایک بندہ کہتا ہے کہ میرے پاس اس وقت ریال بالکل نہیں ہیں،آپ مجھے ایک لاکھ روپے دلوادیں اور میرے کھاتے میں لکھ دیں،چنانچہ وہ اس شخص کے کھاتے میں ایک لاکھ پاکستانی روپے کے بدلے سترہ سو ریال لکھ دیتا ہے،یعنی ادھار کی وجہ سے دوسو ریال زیادہ چارج کرتا ہے،کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟

تنقیح:واضح رہے کہ پہلی صورت میں بھی یہ شخص اپنا نفع رکھتا ہے،لیکن ادھار کی صورت سے کم نفع رکھتا ہے،یعنی پندرہ سو ریال کی قیمت اگر ایک لاکھ بنتی ہے مارکیٹ ریٹ کے لحاظ سے تو یہ نوے ہزار روپے قیمت لگاتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دو مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا آپس میں تبادلہ دو شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1۔دونوں میں سے کسی ایک پر معاملہ کی مجلس میں فوری قبضہ ہو۔

2۔معاملہ مارکیٹ ریٹ پر کیا جائے،مارکیٹ ریٹ سے کمی بیشی جائز نہیں،کیونکہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر تبادلے کی اجازت سے سود کا دروازہ کھلنے کا اندیشہ ہے۔

لہذا مذکورہ دونوں صورتوں میں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر معاملہ کرنا جائز نہیں ہے،البتہ اس کی متبادل صحیح صورت یہ ہے کہ دونوں کرنسیوں کا تبادلہ تو مارکیٹ ریٹ پر ہواور رقم کی ترسیل پر بطور اجرت الگ سے اضافی رقم طے کرلی جائے۔

علاوہ ازیں چونکہ مذکورہ دونوں صورتوں کا تعلق حقیقت میں ہنڈی کے کاروبار سے ہے جو قانونی طور پر ممنوع ہے،اس لئے ایسا کرنے سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (5/ 179):

(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر

"فقه البيوع " (2/ 739):

"أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربیة الباکستانیة بالریال السعودی، فقیاس قول الإمام محمد رحمہ اللہ تعالی أن تجوز فیہ النسیئة أیضاً؛ لأن الفلوس لو بیعت بخلاف جنسھا من الأثمان، مثل الدراھم، فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعاً بشرط أن یقبض أحد البدلین فی المجلس، لئلا یؤدی إلی الافتراق عن دین بدین….. فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی، وتجوز فی الموقف الثالث، وھذا الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی "أحکام الأوراق النقدیة".

" بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة " (1/ 175):

"وقد یقع إشکال علی جواز النسیئة أنه لو أجیزت النسیئة فی مبادلة عملات مختلفة، یمکن أن تصبح النسیئة حیلة لأکل الربا…. وحل هذا الإشکال ماذکرنا من أن یشترط فی جواز النسیئة أن یکون بسعر المثل یوم العقد. فإن اشتراط ثمن المثل فی عقود النسیئة یقطع الاحتیال علی الربا. واشتراط سعر المثل فی المبادلات له نظائر کثیرة فی الفقه، مثل أجرة کتابة الفتوی، أجازها الفقهاء بشرط أن لایتجاوز فیه عن أجر المثل، وذلك لئلا یتخذ ذلك حیلة لتقاضی الأجرة علی الإفتاء نفسه".

" تکملة فتح الملھم " (3/ 268):

"المسلم یجب علیہ أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحة؛ فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابہ؛ لأن اللہ سبحانہ وتعالی قال: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]،  فلو کان المراد من إطاعة أولی الأمر إطاعتھم فی الواجبات الشرعیة فحسب، لما کان ھناك داعٍ لاستقلالھم بالذکر فی ھذہ الآیة؛ لأن طاعتھم فی الواجبات الشرعیة لیست إطاعة أولی الأمر، وإنما ھو إطاعة اللہ ورسولہ، فلما أفردھم اللہ سبحانہ بالذکر ظھر أن المراد إطاعتھم فی الأمور المباحة. ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

23/صفر 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب