03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سامان سستا خرید کر مہنگا بیچنا
81267خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 میں ایک کمپنی کے ساتھ بطور پلمبر کام کر رہا ہوں۔ جس سپلائیر سے ہماری کمپنی سامان خریدتی ہے وہ سپلائیر سامان مہنگا فروخت کرتا ہے، مثال کے طور پر سپلائیر ہمیں ایک سامان 100,000 روپے میں دیتا ہے اور و ہی سامان میرا دوست مجھے 90,000 میں دے دیتا ہے۔ کیا میں اپنے دوست سے 90,000میں سامان خرید کر کمپنی کو 100,000 میں دے  سکتا ہوں؟  ہماری کمپنی کے مالک کو نہیں معلوم کہ ہم نے  یہ سامان کہاں سے خریدا۔ کمپنی کے مالک نے بولا ہے کہ وہ سامان 100,000 میں لے لو ، البتہ کمپنی مینیجر جس نے خریداری کرنی ہے وہ جانتا ہے کہ اسے سامان میں نے دیا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ وہ  سامان کی خریداری چھٹی کے بعد کرتا ہےاور سامان پلمبرنگ میں استعمال ہونے والا  ہی ہوتا ہے۔ نیز کمپنی مینیجر سائل سے کمیشن نہیں لیتا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت  میں  کمپنی کی طرف سے خریداری کرنے کی ذمہ داری مینیجر کی ہے، چونکہ خریداری   کا واسطہ کوئی اور بنتا ہے تواس صورت میں  آپ کے لیے اپنے دوست سے سامان خریدنے کے بعد اسے خود یا بذریعہ وکیل اپنے قبضہ وتحویل میں لے کر  کمپنی کو نفع کے ساتھ فروخت کرنا شرعاً جائز ہے ،بشرطیکہ اس میں مارکیٹ ریٹ کی رو سے کمپنی کو نقصان نہ ہوتا ہو۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 510):

"ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض."

تبين الحقائق شرح كنز الدقائق (4/80):

 "لايجوز بيع المنقول قبل القبض؛ لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام: «إذا ابتعت طعامًا فلاتبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 236):

"(المادة 353) للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا".

الهداية (3/ 59):

"ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه"

لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك.

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

23/صفر الخیر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب