03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق دینے کے بعدشوہرکامنکرہوجانا
81426طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

 میرے شوہرنے مجھے کہاہے کہ میں ....... کوطلاق دیتاہوں،طلاق دیتاہوں،طلاق دیتاہوں اوریہ الفاظ میں نے خوداپنے کانوں سے سنے ہیں،دوسرے دن وہ کلمہ پڑھ کرسب کے سامنے بول رہاہے کہ  میں نے توایساکچھ نہیں کہاہے،قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیے میرانکاح باقی ہے یانہیں؟اگرباقی نہیں ہے توعدت کتنی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں اگرآپ  کے پاس دومعتبرمرد یاایک مرداوردومعتبرعورتوں کی گواہی موجود ہے توایسی صورت میں  آپ کی بات ہی قضاء معتبرسمجھی جائے گی اور مردکی بات کاکوئی اعتبار نہیں ہوگا اورتین طلاقیں واقع سمجھی جائیں گی۔اوراگر آپ کے پاس تین طلاقیں دئیے جانے پرگواہان موجود نہ ہوں تو مرد سے قسم لی جائے گی،اگرمردپنچایت یاعدالت میں قسم کھاتاہے کہ اس نے طلاقیں نہیں دی ہیں توقضاء طلاق واقع نہیں ہوں گی اوراس صورت میں اگرمرد نےجھوٹ بولاہےتواس کاگناہ اوروبال اسی پرہوگااوردیانتایعنیفیمابینہ وبین اللہآپ اس کیلئے حلال نہیں ہوں گی،دیانتاکامطلب یہ ہے کہ  اگرآپ نے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ خودسنے ہیں  اورآپ کواس میں  کوئی اشتباہ نہیں ہے توآپ کے لئے اپنے سنے ہوئے پرعمل کرناضروری ہے اور اس  مرد کے ساتھ رہنااورازدواجی تعلق کیلئے قدرت دیناجائز نہیں ،اس صورت میں اگرمرد چھوڑنے پرآمادہ نہ ہوتوآپ پر لازم ہے کہ مال دے کر خلع  لیں یاقاضی یاشرعی پنچایت کے ذریعہ خلاصی کی کوشش کریں،عدالت کے ذریعہ بھی خلع لے سکتی ہے،اگران تمام طریقوں سے مدد لینے کے باوجود خلاصی ممکن نہ ہوسکے اور مرد ساتھ رہنے پرمجبورکرے توایسی صورت میں ساتھ رہنے کاگناہ  مرد  اوراس کی حمایت کرنے والوں پرہوگا،آپ پرنہیں۔

عدت تین ماہواری کاگزرجاناہے،حمل کی صورت میں عدت وضع حمل ہے۔

حوالہ جات

فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 181):

 والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي ،فإن لم يكن لها بينة يحلفه، فإن حلف فالإثم عليه .

ولا فرق في البائن بين الواحدة ، والثلاث  .

وهل لها أن تقتله إذا أراد جماعها بعد علمها بالبينونة فيه قولان ، والفتوى أنه ليس لها أن تقتله وعلى القول بقتله تقتله بالدواء فإن قتلته بالسلاح وجب القصاص عليها وليس لها أن تقتل نفسها وعليها أن تفدي نفسها بمال أو تهرب۔

الفتاوى الهندية (ج 42 / ص 414):

وإذا شهد شاهدان عند المرأة بالطلاق ، فإن كان الزوج غائبا وسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر ، وإن كان حاضرا ليس لها ذلك ، ولكن ليس لها أن تمكن من زوجها ، وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه ، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه ، وإن لم تقدر على ذلك قتلته ، وإذا هربت منه لم يسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر ، قال شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى - : ما ذكر أنها إذا هربت ليس لها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر جواب القضاء ، أما فيما بينها وبين الله تعالى - فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد ما اعتدت ، كذا في المحيط۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

   ۲۲/ربیع الاول ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب