| 81277 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
زید نے شادی کے بعد کچھ عرصہ بیوی کے ساتھ گزارا ،پھر کمائی کے لئے دبئی چلاگیا ، اس کے جانے کچھ وقت گزرنے کے بعد بیوی نے رشتے داروں سے کہا کہ میراشوہر عنین ﴿ یعنی نامرد ﴾ ہے ، جب زید کو بیوی کی ان باتوں کا علم ہو توا س نے کچھ وقت تک بیوی سے بات چیت بند رکھا ،اس کے بعد بیوی نے زید کے گھر والوں سے طلاق کا مطالبہ کیا کہ زید مجھے طلاق دیدے ، اس کے بعد زید نے دبئی سے فون پر کال کرکے بیوی کو صریح الفاط میں تین طلاقیں دیں ۔
طلاق دینے کے بعد زید مطالبہ کررہا ہے کہ میں نے 10 تولے سونے دیا تھا،اور اس کے علاوہ جو ساز وسامان دیا تھا ،وہ سب واپس کریں ، سوال یہ ہے کہ زید کا طلاق کے بعد سونا اور دیگر سامان کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح ہوکہ جوسونا چاندی نکاح کے موقع پر مہرکے طور پر دیا جائے ، جب بیوی رخصت ہوکر شوہر کے گھر آباد ہوجاتی تو سارا مہر بیوی کی ملک میں داخل ہوجاتی ہے ، بیوی کل مہر کی مالک بن جاتی ہے ، اسی طرح شوہر کی طرف سے جو سامان بیوی کو ہدیہ کرکے مالک بناکر دیئے جاتے ہیں ، ان کی بھی بیوی مالک بن جاتی ہے ، شوہر کو بعد میں واپس لینے کاحق نہیں ہوتا ، اگر بیوی کو کوئی سامان عاریت کے طورپر دیاجائے بعد میں اسے واپس لینے کاحق ہوتا ہے ،نیز اگر شوہر كی طرف سے طلاق ، مہرکے زیورات یا سامان واپس کرنے کی شرط پر دی جائے تو پھر شوہر کو مهر یا سان واپس مانگنے کا حق ہوتا ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر زید نے زیورات یا سامان واپس کرنے کی شرط پر طلا ق دی ہے تو شوہر کو زیورات واپس مانگنے کاحق ہوگا ، اور بیوی کے ذمے واپس کرنا لازم ہوگا ، اور اگر بدون کسی شرط کے طلاق دی ہے، تو طلاق کے بعد شوہر کے لئے مہرکے طور پر دیا گیا سونااور سامان کی واپسی کا مطالبہ جائز نہیں ۔ البتہ اگر زیورات کا کچھ حصہ یا کوئی سامان عاریة استعمال کے لئے دیا گیا ہو ، اس پر گواہ بھی موجود ہو یا شوہر کا کوئی ذاتی سامان بیوی کے پاس موجود ہو تو شوہر ان چیزوں کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 102)
(قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه ظهر أن ما في الدرر من أن قوله عند وطء متعلق بالوجوب غير مسلم كما أفاده في الشرنبلالية: قال في البدائع: وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك، وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع. اهـ.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 199)
" ومن سمى مهرا عشرة فما زاد فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها " لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بانتهائه يتقرر ويتأكد فيتقرر بجميع مواجبه "
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۴ صفر ١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


