03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معلق بالشرط طلاق نامہ کی شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں حکم (تحریری طلاق نامہ کو زبانی شرائط سے معلق کرنا)
81282طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ولی اللہ ولد منور خان نے نکاح کیا تھا اپنے چچا کی بیٹی کے ساتھ، جس سے ایک بچہ بھی ہو گیا۔مزدوری کر کے بڑے احسن طریقے سے اپنے گھر کی ضروریات کا خیال رکھ رہا تھا (یعنی نان و نفقہ سکنہ و غیرہ وغیرہ) وقت گزرنے کے بعد ولی اللہ نشہ میں مبتلا ہو گیا تھا، اس کا پتہ اس کے سسرال والوں کو چلا، تو سسرال والوں نے آکر ولی اللہ کے بھائی ، ماموں، چچا زاد بھائی اور پھوپھی کے بیٹے پرمشتمل جرگہ کے ساتھ مشاورت کر کے ولی اللہ کونشہ سے دور کرنے کیلئے یہ اقدام کیا کہ انہوں نے ولی اللہ سے ایک بیان حلفی لکھوایا۔(بیان حلفی منسلک ہے)

بیان حلفی لکھنے کے بعد ولی اللہ کو بٹھایا گیا اور کافی بار سنایا گیا اور کہا کہ تم نے اس پر دستخط کرنے ہیں، اور ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم تم سے تمہاری بیوی الگ کرنا چاہتے ہیں، بلکہ تمہیں نشہ سے دور کرنے کیلئے ایک اقدام ہے۔ ولی اللہ نے دستخط کرنے سے انکار کیا۔

پھر اگلے دن جر گہ والے کچھ شرائط کے ساتھ ولی اللہ کے پاس آئے، ولی اللہ نے بیان حلفی پر دستخط کر دیے۔ دورانِ دستخط ولی اللہ نے دستخط کرنے سے انکار کیا تو جرگہ والوں نے کچھ شرائط رکھیں:

-1کہ چالیس دن تم اپنے باپ کے گھر میں رہو گے۔

-2چالیس دن میں تمہارے جتنے بھی اخراجات ہوں گے ہم پورے کریں گے۔ نان ونفقہ ولی اللہ، ولی اللہ کی بیوی اور بیٹے کا اور ہسپتال وغیرہ کا۔

-3چالیس دن میں ہم تمہاری لئے کاروبار بنا ئیں گے اور چالیس دن کے بعد تمہارے حوالے کریں گے۔

-4چالیس دن تمہا ر ا رکشہ جرگہ کے حوالے ہو گا۔

 تو پھر ولی اللہ نے بھی کچھ شرائط پیش کیں کہ:

  1. چالیس دن میر ار کشہ کھڑا کرنے کے بجائے اس کو بیچ دیں کیونکہ بازار کا ماحول خراب ہے، تقریبا ہر رکشہ والا نشوں میں ملوث ہے۔
  2. رکشہ بیچ کر اُن پیسوں سے مَیں اس دوکان (جو ہماری ملکیت میں ہے) میں تجارت کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ دوکان میں کاروبار کرنے سے میں بازار کےغلط ماحول سے دور رہوں گا۔

ان شرائط کے مطابق ولی اللہ نے جرگے کے سامنے بیان حلفی پر دستخط کیے اور گواہان نے بھی۔

دستخط کے بعد ولی اللہ  کچھ گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے گھر سے باہر گیا اور پہلی شرط کی خلاف ورزی کی، نشہ کیا جس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی اور پھر ولی اللہ نے دوبارہ رجوع کیا۔

چالیس دن بعد:

گھر والوں نے مقرر کردہ شرائط کی پاسداری نہیں کی، یعنی ولی اللہ کے ہسپتال وغیرہ کا خرچہ شرط کے مطابق گھر والوں نے نہیں دیا اور نہ گھر والوں نے ولی اللہ کی شرط کے مطابق اُس  کیلئے کاروبار شروع کیا، یعنی ولی اللہ کو وہ دکان نہیں دی جود ستخط کے دوران ولی اللہ نے منتخب کی تھی۔ پھر ولی اللہ نے کہا: مجھے میرا رکشہ دیا جائے اُس حالت میں جس حالت میں مَیں نے جرگے والوں کو دیا تھا تو سسرال والوں نے ولی اللہ کو اس کا رکشہ دینے سے انکار کر دیا، اور وجہ یہ بتائی کہ اگر ولی اللہ دوسری شرط کے مطابق پوری زندگی میں کبھی بھی نشہ کرے گا تو  رکشہ بیچ دیا جائے گا، اور ایسا ہوا تو میرا حساب کون دے گا؟ (حساب سے مراد ولی اللہ کے سسر کے ولی اللہ پر پچاس ہزار قرض تھے) اور مہر وغیرہ۔

پھر ولی اللہ نے چالیس دن کے بجائے 100 دن تک انتظار کیا اور روز جھگڑے کرتارہا (کہ نہ کارو بار دیا اور نہ ہی اس کا ذاتی رکشہ اسے دیا) اس دوران نیند اور ٹینشن کی گولیاں بھی کھاتا رہا اور کسی نے کچھ نہیں کیا۔

پھر ولی اللہ کے پاس نہ ہی پیسے تھے کہ اپنی بیوی (جو ابھی نفاس کی حالت میں تھی) کوہسپتال لے جاتا اور خود ولی اللہ جو ٹینشن میں بھی تھا اور نشئی بھی، ہسپتال چلا جاتا۔ تو ولی اللہ نے اپنی بیوی کو اس کے ابو کے گھر بھیج دیا تا کہ اسے ہسپتال لے جائے ، اور کہا کہ تم اپنے ابو کو کہنا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟

پھر ولی اللہ کا کہنا ہے کہ12,10 دن بعد اس پر پاگل ہونے کے دورے آنے لگے اور پھر ولی اللہ نے نشہ کر لیا۔ اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ کیا کہ مذکورہ صورت میں ولی اللہ کی بیوی پر طلاق ہوگئی ہےیانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زبانی طلاق کی طرح تحریری طلاق بھی معلق ہوجاتی ہے، یعنی شرط کے پائے جانے پر طلاق واقع ہوگی اور اگر شرط نہ پائی گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی۔

ولی اللہ نے جب پہلی دفعہ دستخط کرنے سے انکار کیا، جس کے بعد حلف نامہ پر دستخط سے پہلے دونوں جانب سے شرائط رکھی گئیں، اگر ولی اللہ نے دستخط کرنے سے پہلے وہ شرائط لگائیں تھیں تو اب ان شرائط کی پاسداری لازم ہے اور ان شرائط کے پورا نہ ہونے کی صورت میں حلف نامہ پر عمل نہیں ہوگا، یعنی اس میں ذکر کردہ طلاقیں واقع نہ ہوگی۔

ولی اللہ نے گھر والوں کے سامنے رکشہ بیچ کر کاروبار کروانے کی شرط رکھی تھی جس پر گھر والوں نے عمل نہ کیا، لہٰذا ولی اللہ کی بیوی کو ایک بھی طلاق نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 420)

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا.

حاشية ابن عابدين (3/ 247)

وفي الهندية وإذا كتب الطلاق واستثنى بلسانه أو طلق بلسانه واستثنى بالكتابة هل يصح، لا رواية لهذه المسألة وينبغي أن يصح كذا في الظهيرية ط والله سبحانه وتعالى أعلم.

الفتاوى البزازية (3/ 22)

كتب الطلاق واستثنى بلسانه أو طلق بلسانه واستثنى بالكتابة يصح.

رد المحتار (11/ 390)

( قوله وعلى ما مر عن العمادية ) أي من قوله : فلو تلفظ بالطلاق وكتب الاستثناء موصولا أو عكس أو أزال الاستثناء بعد الكتابة لم يقع.

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۴/صفر المظفر/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب