03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گورنمنٹ ملازم کا کرایہ کی رقم لینےکےلیےکسی دوسرےمالک مکان کےگھرکےکاغذات جمع کروانا
81377جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

میں عمران احمد وفاقی حکومت کاسرکاری ملازم ہوں اورکرائےپررہتاہوں،مجھےگھر کاکرایہ (جسےگورنمنٹ کی اصطلاح میں house hiring کہتےہیں)،ملتا ہے،house hiring کروانےکےلیےکرائےکےگھرکےکاغذات جمع کروانےہوتےہیں،آج کل کےحالات کےمدنظربہت سےمالک مکان اپنےگھرکےکاغذات نہیں دیتےاورجوچندایک کاغذات دےدیتےہیں تواس میں بہت سےمسائل جنم لیتےہیں،کیونکہ کرائےکی رقم مالک مکان کےبینک اکاونٹ میں تقریباہرچھ ماہ بعد یکمشت آتی ہے،مالک مکان ہرماہ وقت پرکرایہ بھی لیتارہتاہےاور بعض وفعہ وہ چھ ماہ کی رقم میں سےبھی اپنی مرضی کےمطابق پیسےرکھ لیتاہے،جس کاکرائےدارکچھ نہیں کرسکتا،اوراس وجہ سےلڑائی جھگڑےجنم لیتےہیں،جوکہ کرائےدار کےلیےذہنی اورمالی اذیت کاباعث بنتےہیں،اس اذیت اورجھگڑےسےبچنےکےلیےگورنمنٹ کےزیادہ ترملازمین اپنےاعتمادکےلوگوں کےگھرکےکاغذات جع کروادیتےہیں،جہاں وہ ازخودنہیں رہ رہےہوتے،تاکہ ان کی رقم محفوظ رہےاوروہ اس رقم کو اپنےکرائےاورگھرکےدوسرےاخراجات میں خرچ کرسکیں ورنہ تواس مہنگائی میں گزارہ مشکل ہوجاتاہے،اب  میں house hiring کےلیےایک رشتےدار کےگھر کےکاغذات جمع کروانا چاہتاہوں،تاکہ مجھےمستقبل میں مالی اور ذہنی پریشانی نہ اٹھانی پڑے،برائےمہربانی اس بارےمیں میری راہنمائی فرمائیےکہ یہ طریقہ کار صحیح ہےیانہیں ؟

ایک بات قابل ذکریہ بھی ہےکہ میرےادارےکےزیادہ ترافسران اعلی جوکہ house hiring کی اجازت دیتےہیں،ان کومعلوم ہوتاہےکہ ملازمین کی اکثریت ایساہی کرتی ہے،اس لیےوہ درپیش مسائل کےپیش نظر اس کی اجازت دےدیتےہیں،اس مسئلہ پرآپ مفتیان کرا م کی قیمتی رائےدرکارہے،برائےمہربانی اس مسئلےکاحل جلدازجلدتجویز فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس ادارےمیں آپ ملازمت کرتےہیں توملازمت کےمعاہدہ کی وجہ سےاس ادارےکےجائزاصول وضوابط پرعمل کرناشرعاواخلاقاآپ پرلازم ہے،لہذاصورت مسئولہ میں جس مالک  کےمکان میں آپ کرایہ پررہتےہیں ،گورنمنٹ کےقانون کےمطابق اسی مالک مکان کےکاغذات جمع کروانا ضروری ہوگا،گورنمنٹ کےاصول و ضوابط کے خلاف کسی اور کے مکان کے کاغذات جمع کرانا جھوٹ اور دھوکا دہی کی وجہ سے ناجائزہوگا اورخلاف ورزی کی صورت میں دھوکہ دہی اوروعدہ خلافی کاگناہ ہوگا۔

کرایہ کی مدمیں جتنی رقم ملازم  حقیتااداکررہاہے،اس سےزیادہ ادارےسےوصول کرنےکےحکم میں یہ تفصیل ہےکہ اگرادارےکاقانون یہ ہوکہ ملازمین کےگریڈکےحساب سےہاؤس رینٹ کی مدمیں ایک رقم مقررہو،جواس گریڈکےملازمین کو بہرحال ملتی ہوچاہےوہ عملا اس رقم سےکم کرایہ کےمکان میں رہائش رکھتےہوں توایسی صورت میں زائدرقم حلال ہے،ورنہ اگرقانون یہ ہوکہ ملازم کواتنی رقم ہاؤس رینٹ کےطورپرملےگی،جتناکرایہ وہ عملا اداکرےگاتوایسےمیں زائدکرایہ کےگھرکےڈاکومینٹ جمع کرکے،کم کرایہ کےگھرمیں رہائش رکھنااورباقی کرایہ کی رقم اپنےلیےبچاناناجائزہے،ایسی اضافی رقم حلال نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

وقال اللہ تعالی فی سورۃ  بنی اسرائیل: آیت نمبر 34 :واوفوبالعہدان العہد کان مسئولا۔

"تفسير ابن كثير " 5 /  74:وقوله [تعالى] (3) : { وأوفوا بالعهد } أي الذي تعاهدون عليه الناس والعقود التي تعاملونهم بها، فإن العهد والعقد كل منهما يسأل صاحبه عنه { إن العهد كان مسئولا } أي: عنه۔

"صحيح مسلم "1 /  99:عن أبي هريرة  أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا۔

"رد المحتار"21 / 479:أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع وإلا فلا أشباه من القاعدة الخامسة ۔

مطلب طاعة الإمام واجبة ۔( قوله : أمر السلطان إنما ينفذ ) أي يتبع ولا تجوز ۔۔۔وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

29/صفر 1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب