03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودکاحکم اورعبادات پر اس کے اثرات
81321سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

کیا کوئی بھائی یا شخص خود سود کا کام کرے یا کرائے ،قرآن و سنت میں اس کا کیا حکم ہے اور سود کی رقم  سے حاصل ہونے والے نفع سے کیانماز، روزہ، ذکٰوۃ، صدقات، خیرات،فطرہ، عمرہ و حج و قربانی ادا ہو جائیگی اور ایسے فرد کے لیے دین اسلام میں کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سودی کام کرناکرانا قرآن وسنت کی روسے حرام اورناجائزہے اوراس سے حاصل ہونے والانفع بھی حرام ہے اورواجب التصدق ہے، ایساشخص سخت گناہگارہے اورقرآن کی رو سے یہ اللہ تعالی سے جنگ کے مترادف ہے، اگرچہ ایسے فردکی پڑھی گئی نمازہوجاتی ہے، ذمہ سے فرض ساقط ہو جائے گا، اُس کا لوٹانا واجب نہ ہوگا اوررکھاگیا روزہ ادا ہوجاتا ہے،لوٹانا واجب نہیں ہوگا ،لیکن ثواب میں کمی ہوتی ہے اور خالص حرام مال سے ادا کیا جانے والا صدقہ ، زکوة،  فطرہ اورقربانی بھی جائز نہیں ، اللہ کےہاں قبول نہیں، ایسامال پورے کے پورا ہی مالک کو لوٹانا یا بلانیتِ ثواث صدقہ کرنا ضروری ہوتاہے اورایسےحرام مال  سےحج اور عمرہ کرنا بھی جائز نہیں ہوتا،تاہم اگر کسی نے کرلیا تو ایسا حج یا عمرہ ادا توہوجائے گا،مگر ثواب سے خالی ہوگا، لہذا حلال و پاکیزہ رقم سے ہی حج یا عمرہ ادا کیا جائے۔

حوالہ جات

وفی المعجم الاوسط،( رقم: ۶۴۹۵)

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان العبد لیقذف اللقمة الحرام فی جوفہ ما یتقبل اللہ منہ عمل اربعین یوماً

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 291):

"(قوله: كما لو كان الكل خبيثًا) في القنية: لو كان الخبيث نصابًا لايلزمه الزكاة؛ لأنّ الكل واجب التصدق عليه فلايفيد إيجاب التصدق ببعضه. اهـ.ومثله في البزازية".

(کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم،ط: دارالفکر بیروت)

وفیه أیضًا (5/ 99):

"و الحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب ردّه عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحلّ له ويتصدّق به بنية صاحبه".(باب البیع الفاسد، مطلب في من ورث مالًا حرامًا، ط: سعید)

وفی  الشامیة:

"مطلب فيمن حج بمال حرام(قوله: كالحج بمال حرام) كذا في البحر والأولى التمثيل بالحج رياء وسمعة، فقد يقال: إن الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص إلخ ليس حرامًا بل الحرام هو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بينهما، كما أن الصلاة في الأرض المغصوبة تقع فرضا، وإنما الحرام شغل المكان المغصوب لا من حيث كون الفعل صلاة لأن الفرض لا يمكن اتصافه بالحرمة، وهنا كذلك فإن الحج في نفسه مأمور به، وإنما يحرم من حيث الإنفاق، وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلا فيه، فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه، ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ. أي لأن عدم الترك يبتنى على الصحة: وهي الإتيان بالشرائط، والأركان والقبول المترتب عليه الثواب يبتنى على أشياء كحل المال والإخلاص كما لو صلى مرائيًا أو صام واغتاب فإن الفعل صحيح لكنه بلا ثواب والله تعالى أعلم."( كتاب الحج، ٢ / ٤٥٦، ط: دار الفكر)

حکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

30/صفر1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب